خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 506 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 506

خطبات طاہر جلد 15 506 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء کی تفصیلی حدیث ہے۔ہر ایسے موقع پر وہ بندہ جسے خدا مخاطب ہوگا بے قرار ہو کر جواب دے گا کہ اے رَبِّ الْعَلَمِينَ تو کب بھوکا تھا۔کیسے ممکن ہے کہ تو بھوکا ہو۔تو کب ننگے بدن تھا۔کیسے ممکن ہے کہ تو ننگے بدن ہو۔کب تجھے بھوک اور پیاس نے تڑپایا کہ میں تیری خدمت کر سکتا۔اللہ تعالیٰ یہ جواب دے گا کہ جب میرا ایک غریب بندہ ننگے بدن تھا تو میں ننگے بدن تھا۔تم نے کیوں اس کا خیال نہ کیا۔پس یہ جو اختیار ہے نیک و بد کا اس سے بعض بڑے کر یہہ مناظر پیدا ہوتے ہیں تکالیف کے مگر ی بھی خدا تعالیٰ کے ایک عظیم پر حکمت نظام کا حصہ ہیں لیکن یہ خیال کر لینا کہ اللہ رحیم نہیں ہے ورنہ وہ ان تکلیفوں کو دور کر دیتا ایک جاہلانہ خیال ہے یہ حدیث ان خیالات کا بطلان کرتی ہے۔اللہ کو اپنے سب بندوں کا احساس ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس تکلیف کے بدلے جو انہیں عارضی طور پر دنیا میں پہنچے گی انہیں وہ اتنا خوش کر سکتا ہے ، اتنا خوش کرے گا کہ وہ لوگ سمجھیں گے کہ یہ جو کچھ ہمیں نصیب ہو رہا ہے اس کا ، ہمارے دکھوں سے اس کی کوئی بھی نسبت نہیں۔وہ دکھ ان کو حقیر محسوس ہوں گے بے معنی دکھائی دیں گے کیونکہ جب ایک معمولی تکلیف کا بہت بڑا انعام دیا جاتا ہے تو تکلیف بالکل کالعدم ہو جایا کرتی ہے۔پس اس پہلو سے جب میں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے جب یہ کہتا ہے کہ اے میرے بندے بے قرار نہ ہو تو یہ کہنا ہرگز جائز نہیں کہ دراصل یہ پیغام ہے کہ اے میرے بندے میری خاطر تو دنیا کے دکھوں سے بے قرار ہورہا ہے اس طرف نظر کر کہ تیرے لئے آسمان پر بے قرار ہوں۔ورنہ یہ نصیحت کبھی خدا تعالیٰ نہ فرماتا۔یہ وہ جذبہ ہے جو ایک حیرت انگیز لافانی اطاعت کی روح پیدا کرتا ہے اور اطاعت امارت سے شروع ہوتی ہے۔پس آپ میں سے ہر وہ شخص جس کے سپرد کسی قسم کے امارت کے مناصب سونے جائیں وہ یاد رکھے کہ ایک ہی اطاعت کروانے کا رنگ ہے اور وہ محمد مصطفی ﷺ کا رنگ ہے۔اس رنگ کو اپنا ئیں گے تو خدا کے رنگ اپنا ئیں گے۔اگر اس رنگ کو نہیں اپنا ئیں گے تو آپ اس بات کے اہل ہی نہیں ہیں کہ آپ کی کسی معنے میں بھی اطاعت کی جائے۔اس تعلق میں بعض اور آیات بھی ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔مگر چونکہ وقت کم ہے اس لئے صرف ایک سورہ مدثر کی بعض آیات ہیں انہی پر میں قرآن کریم کے حوالے کو ختم کروں گا۔پھر احادیث کے حوالے سے چند اور امور آپ کے سامنے رکھوں گا۔فرمایا يَا يُّهَا الْمُدَّثِرُ ( المدر: 2) اے فرغل پہنے ہوئے یا کوٹ پہنے ہوئے ، جو اوپر کا کوٹ