خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 499 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 499

خطبات طاہر جلد 15 499 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء صلى الله لئے تیار رہتے ہیں۔ مگر آنحضرت ﷺ کی امارت کا اس بات سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ۔ پھر فرمایا حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ یہاں عَلَيْكُمْ کے صلى صلى الله لفظ نے یہ بتا دیا کہ آپ کا یہ رجحان تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے کیونکہ جہاں تک مومنوں کا تعلق ہے ان کے متعلق الگ مضمون بیان فرمایا گیا ہے بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ یعنی اس آیت کا خطاب در اصل تمام بنی نوع انسان سے ہے۔ لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ اے بنی نوع انسان تم ہی میں سے ایک رسول مبعوث ہو چکا ہے، مبعوث فرما دیا گیا ہے۔ وہ تمہاری ہر تکلیف کے لئے پریشان رہتا ہے۔ تمہاری ہر تکلیف محسوس کرتا ہے اور تمہارے لئے خیر کا اتنا خواہاں ہے کہ گویا اسے حرص لگ گئی ہے اور جہاں تک مومنوں کا تعلق ہے رؤف رحیم ہے۔ رؤف خدا کا نام ہے، خدا کی صفت ہے اور رحیم بھی خدا کی صفت ہے۔ یہ وہ خاص موقع ہے جہاں صفات باری تعالیٰ سے آنحضرت ﷺ کو مخاطب فرمایا گیا ہے یا آپ کی ذات میں ان صفات کا اطلاق دکھایا گیا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود نے بھی اس آیت کے حوالے سے اس مضمون پر بہت روشنی ڈالی کہ یہ ایک غیر معمولی آیت ہے جو خدا کی صفات رَءُوفٌ اور رحیم کو حضور اکرم ﷺ کی ذات میں جاری دکھاتی ہے یعنی مومنوں کا جہاں تک تعلق ہے اس کی رافت گویا خدا کی رافت ہے۔ مومنوں کا جہاں تک تعلق ہے اس کی رحمت گویا خدا کی رحمت ہے لیکن اس لگن میں جو مومنوں کی تکلیف کے خیال کی لگن بھی ہے اور ان کی بھلائی دیکھنے کی لگن بھی ہے ایک ادنی سا بھی تعلق اپنے نفس کا شامل نہیں ۔ کوئی غرض یہ نہیں ہے کہ اگر میں اس طرح سلوک کروں گا تو میری اطاعت کی جائے گی۔ جہاں تک آپ کی اطاعت کا تعلق ہے آپ جانتے ہیں کہ محض خدا کی خاطر میں اطاعت کا حق دار ہوں اور میری رافت اور رحمت کا اطاعت حاصل کرنے سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں اس سے بے نیاز ہیں۔ چنانچہ فرمایا فَإِن تَوَلَّوْا پس اگر یہ لوگ پھر جائیں اور تیری طرف پیٹھ پھیر کر چلے جائیں فَقُلْ حَسْبِيَ الله کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو۔ یہ نہ سمجھنا کہ میں تم پر اس لئے مہربان تھا، اس لئے روف اور رحیم تھا کہ تمہاری اطاعت چاہوں اور مجھ سے ذاتی تعلق کی وجہ سے تم میرے زیادہ مطیع ہو جاؤ ۔ فَقُلْ حَسْبِيَ الله الله میرے لئے بہت کافی ہے لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ پس میں ہر جھوٹے معبود کا انکار کرتا ہوں ۔ مجھے اور کسی پر نہ تو کل ہے، نہ کسی کی ضرورت ہے