خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 498
خطبات طاہر جلد 15 498 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء لگن لگ جائے ان کی تکلیفوں کے احساس کی کہ کوئی دور کسی جگہ بھی مصیبت میں مبتلا ہو تو یہاں وہ خود بے قرار ہو جائے۔آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے وہ تو قعات رکھیں جو آپ اپنے دل میں ، اپنی ذات میں محسوس فرمایا کرتے تھے اور اس سے پتا چلتا ہے کہ حضور اکرم ہے جو خود تھے ویسا ہی دوسروں کو بھی دیکھنا چاہتے تھے اور بسا اوقات آپ کا یہ انداز تھا کہ نیکی کی باتیں اپنی ذات سے منسوب کرنے کی بجائے مثالوں کی صورت میں بیان فرمایا کرتے یا صحابہ سے توقعات کی صورت میں بیان فرمایا کرتے۔مثلاً یہ کہنے کی بجائے کہ میں وہ ہوں جس کے متعلق خدا نے یہ کہا آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت ،مومنوں کی جماعت کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک بدن ہو اور سب ایک بدن کے اعضاء ہوں۔اگر کسی کے پاؤں کے انگلی کے کنارے پر بھی کانٹا چبھے تو سارا بدن اس سے اذیت محسوس کرے۔غور طلب بات یہ ہے کہ یہ مثال جب تک حضرت اقدس کی اپنی ذات کی نہ ہو آپ آگے بیان فرما ہی نہیں سکتے تھے اور سب سے زیادہ یہ مثال خود آپ کی ذات پر چسپاں ہوتی تھی۔کسی مومن کی کوئی تکلیف آپ کے لئے قابل برداشت نہیں تھی۔پس آپ نے جب خود اپنے متعلق کھول کر بات بیان نہ فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات کے متعلق کھول کر ہمارے سامنے رکھ دی۔عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ تمہیں بسا اوقات خیال بھی نہیں ہوگا کہ تم تکلیف میں مبتلا ہو اور کوئی تمہارے لئے بے قراری سے راتوں کو جاگ کر دعائیں کر رہا ہے لیکن محمد مصطفی اے جیسا مطاع تمہیں نصیب ہوا ہے کہ تمہاری خاطر تمہاری تکلیفوں میں مبتلا رہتا ہے۔حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ تمہارے لئے حریص ہے یعنی صرف تمہاری تکلیف کے احساسات میں شدت نہیں رکھتا بلکہ تمہاری بھلائی کے خیال میں ایک حریص کی طرح اس کی حالت ہے۔حریص ایسے شخص کو کہتے ہیں جسے ایک طلب کی لگن لگ جائے جو اور چاہے، اور چاہے اور پھر بھی اس کی پیاس نہ بجھے۔تو فرمایا تمہارے متعلق خیر کی ایسی تمنا اس کے دل میں ہے کہ جتنی بھی تمہیں خیر عطا ہو اس سے بڑھ کر یہ تمہارے لئے چاہتا ہے۔پس تکلیف کا یہ احساس اور خیر کی یہ تمنا کیا کبھی دنیا کے کسی ڈکٹیٹر میں ایسی یا اس سے کروڑواں حصہ بھی دکھائی دی ہے۔ڈکٹیٹر اگر کچھ تعلق اپنی ذات کا رکھتے ہیں تو ان لوگوں سے جو ان کی سچی جھوٹی ہر بات مان کر ان کے مظالم میں ان کے شریک اور ان کی حکومت کی بقاء کے لئے ہر دوسرے پر ہر ظلم کرنے کے