خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 494 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 494

خطبات طاہر جلد 15 494 خطبہ جمعہ 21 جون 1996ء مگر حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے آپ کو بھی آپ کے ساتھ مل کر ایک مجرم سا محسوس کر رہا تھا۔جو حق تھا جیسا کہ حق تھا ہم نے ادا نہیں کیا۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ مغربی دنیا میں کینیڈا کو ایک خاص سعادت نصیب ہوئی ہے۔جس کا ذکر میں ہمیشہ کرتا چلا آیا ہوں۔ان لوگوں میں ایک بھولا پن ہے، ایک سادگی ہے جو باقی مغربی دنیا میں اس حد تک نہیں ہے۔جرمن قوم کی بھی میں تعریف کرتا ہوں اور قوموں کی بھی اپنی خوبیوں کے لحاظ سے تعریف کرتا ہوں لیکن ان کا ایک الگ انداز ہے سادگی اور بھولے پن کا جو اس قوم کا ایک خصوصی نشان بن چکا ہے۔ان کو باوجود اس کے کہ یہ دنیا داریوں میں پھنس گئے ہیں اور دن بدن ان کی تو جہات لذت کی پیروی میں منعطف ہو چکی ہیں لیکن ابھی ان کے دل میں ایک پیاس موجود ہے اچھے ہونے کی بھلائی کی ، بنی نوع انسان کی خدمت کی۔پس یہ قوم آپ کو بلا رہی ہے اور اگر آپ نے ان تک پہنچ کر ان کی اس طبعی پیاس کو نہ بجھایا تو پھر آپ خدا کے حضور کیا جواب دیں گے۔آپ کوثر کے مالک تو بن بیٹھے مگر کوثر کی تقسیم کا حق ادا نہ کیا۔پس آپ کی مثال تو ایسی ہی ہوگی جو زندگی کے چٹے پر قبضہ کرلے اور کسی کو اس سے سیراب نہ ہونے دے۔پس اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو آنحضرت ﷺ کے کوثر کا ساقی بنا دیا ہے اس ساقی بننے کے حق کو ادا کریں اور چین سے نہ بیٹھیں جب تک آپ کینیڈا کی سعید روحوں کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی طرف دعوت نہ دیں اور پھر ان کی تربیت نہ کریں ، ان کو اپنا ئیں نہیں ، ان کو پیار نہ دیں۔یہ ایک اور مضمون ہے جس کا میں انشاء اللہ آئندہ کسی موقع پر ذکر کروں گا۔سردست اتنا ہی پیغام دینا کافی سمجھتا ہوں۔آپ کی وساطت سے چونکہ دنیا ساری براہ راست اس وقت اس خطاب کو سن رہی ہے اور کینیڈا کی جماعت کو یہ توفیق ملی ہے کہ یہ دو طرفہ تعلقات کے رشتے قائم کر دیئے ہیں۔اس لئے میں اس مبارک موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دفعہ پھر دعوت الی اللہ کی طرف آپ کو توجہ دلاتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین