خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 493
خطبات طاہر جلد 15 493 خطبہ جمعہ 21 / جون 1996ء الْعَلِيْمُ جان لے کہ وہ بہت سنے والا اور بہت جاننے والا ہے۔تو نہ بھی کہتا تو وہ جانتا تھا لیکن جب تو گریہ وزاری خدا کے حضور پیش کرتا ہے تو وہ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ ہے۔وہ سنے والا بھی ہے اور جاننے والا بھی ہے۔پس مومن اگر یہ رنگ اختیار کرنے کی کوشش کرے گا جو آقا کے رنگ ہیں یعنی حضرت محمد مصطفیٰ کے رنگ تو اس کی اطاعت میں بھی رفعتیں ہیں ، اس کے مطاع ہونے میں بھی رفعتیں ہیں۔ہر حال میں وہ سر بلند ہے لیکن اس حالت میں سر بلند ہو گا جب خدا کے حضور اس کا سر جھکار ہے گا۔جب سجدوں میں تقلب نصیب ہوگا اور جب بنی نوع انسان کے سامنے اس کی انکساری خدا کی خاطر ہوگی نہ کہ نفس کی عزت کی خاطر اللہ کرے ہمیں یہ توفیق نصیب ہو اور جماعت کینیڈا کو بھی اللہ تعالیٰ یہ توفیق عطا فرمائے۔آمین اب چونکہ وقت ختم ہو رہا ہے مگر میں ایک بات جماعت کینیڈا کو خصوصیت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس اطاعت کے مضمون کو سمجھ کر یا درکھیں۔میں سال ہا سال سے آپ کو تبلیغ کی طرف توجہ دلا رہا ہوں اور ہر طرح جس حد تک مجھے خدا نے توفیق بخشی بلند آواز سے بھی ، آہستہ بھی ، خطوں میں لکھ لکھ کر بھی ، پیار سے بھی سمجھا کر کبھی ناراضگی کا اظہار کر کے بھی آپ کو بتارہا ہوں کہ دیکھو یہ زمانہ وہ آ گیا ہے کہ جب تبلیغ کے تقاضے ہر دوسرے تقاضے سے بالا ہو گئے ہیں۔اب قوموں کی تقدیریں پلٹنے کا زمانہ آ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم وہ ہیں جن کے ہاتھوں میں قوموں کی تقدیروں کی باگ ڈور تھا دی گئی ہے۔اگر ہم اس فریضے کو ادا نہیں کریں گے تو پھر اور کوئی کبھی اس فریضے کوا د نہیں کرے گا اب تو دوسروں کی طرف سے آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ابھی پرسوں کینیڈا کے ایک مخلص احمدی جو ابھی حال ہی میں احمدی ہوئے ہیں مجھ سے ملنے آئے اور کہا کہ میں شکریہ بھی ادا کرنے آیا ہوں اور شکوہ بھی کرنے آیا ہوں۔شکریہ اس بات کا کہ مجھے وہ نعمت نصیب ہوئی جس کے لئے میرا دل ہمیشہ بے قرار رہتا تھا اور ایک پیاس تھی جو بجھتی نہیں تھی۔صرف احمدیت میں آکر وہ پیاس بجھی ہے اور شکوہ اس بات کا کہ آپ لوگ پہلے کہاں رہے ہیں کیوں ہم تک اپنی آواز نہیں پہنچائی۔اس نے کہا آپ کو پتا نہیں کہ لاکھوں روحیں ہیں میری طرح جو بے تاب ہیں۔ان کے کان ترس رہے ہیں آپ کی آواز سنے کو اور آپ خاموش بیٹھے ہیں۔کون اس کا ذمہ دار ہے۔میں نے جس حد تک ممکن تھا سمجھانے کی کوشش کی