خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 490
خطبات طاہر جلد 15 490 خطبہ جمعہ 21 / جون 1996ء اندر نہیں جانے دوں گا۔اس پر وہ شہزادہ آپے سے باہر ہو گیا ، اس نے اپنا کوڑا نکالا اور اس پر برسانا شروع کیا یہاں تک کوڑے مار مار کے اسے ادھ موا کر دیا۔اس نے ہاتھ نہیں اٹھایا مگر اس طرح چھاتی تانے سامنے کھڑا رہا۔اس نے کہا شہزادے آپ مارنا ہے جتنا چاہے مار لیں مگر میں بادشاہ کی حکم عدولی نہیں کروں گا میں تمہیں نہیں جانے دوں گا۔جب یہ شور سنا اور کوڑوں کے برسنے کی آواز اندر گئی تو بادشاہ با ہر نکلا۔اس نے کہا یہ کیا ہو رہا ہے۔شہزادے نے کہا اے میرے باپ اس نے میری گستاخی کی ہے بہت بے ادبی کا سلوک کیا ہے۔کیا ہوا ؟ میں اندر آنا چاہتا تھا آپ سے ملنے کے لئے اور اس کمترین انسان کو دیکھیں میرے سامنے کھڑا ہو گیا کہ میں تمہیں اندر نہیں جانے دوں گا۔بادشاہ جان کے بھولا بنا اور اس سپاہی سے پوچھا کہ بتاؤ یہ کیا بات ہے کیوں تم اس کو اندر نہیں آنے دیتے تھے۔اس نے کہا بادشاہ سلامت آپ کا حکم تھا۔آپ کے حکم کی اطاعت کی خاطر میں نے یہ قربانی دی ہے۔بادشاہ نے کہا اچھا یہ بات ہے ، تو نے اسے بتایا تھا۔اس نے کہا ہاں میں نے اسے بتایا تھا۔اس نے بیٹے سے کہا جب تم نے سنا تھا کہ بادشاہ کا حکم ہے تو تم نے کیوں نافرمانی کی۔اس نے سپاہی کو نام لے کر مخاطب کیا اور کہا یہ کوڑا اٹھا اور اس بیٹے کو اسی کوڑے سے اسی طرح مار جس سے اس نے تجھے مارا تھا۔اس پر شہزادے کی غیرت بھڑ کی اور روس کا قانون اس کی مدد کے لئے آیا۔اور اس نے بادشاہ سے عرض کیا کہ بادشاہ سلامت یہ ملک روس کا قانون ہے کہ کوئی غیر افسر سپاہی اپنے افسر کو مار نہیں سکتا، جب کہ میں فوج میں ایک بڑا افسر ہوں اور یہ شخص ایک عام سپاہی ہے۔اس لئے آپ کا قانون اس حکم کی ، جو آپ نے حکم دیا ہے اس کی راہ میں حائل ہو رہا ہے۔بادشاہ نے کہا ہاں قانون نہیں ٹوٹے گا۔سپاہی کو مخاطب کر کے اسے فوج کا ایک بڑارتبہ عطا کرتے ہوئے کہا۔اے جرنیل یا اے کر نیل جو بھی تھا اس سانٹے کو اٹھا اور میرے بیٹے کو مار۔اس پر شہزادے کو ایک اور قانون یاد آ گیا۔اس نے بادشاہ سے کہا بادشاہ سلامت ایک یہ بھی قانون ہے کہ کوئی غیر شہزادہ کسی شہزادے کو نہیں مار سکتا۔بادشاہ نے کہا ہاں اس قانون کا بھی احترام کیا جائے گا۔اس نے کہا اے شہزادے! فلاں سانٹا اٹھا اور میرے بیٹے کو مار۔چنانچہ اپنے سامنے اس نے اس بیٹے کو سانٹے لگوائے کیونکہ اطاعت کی عظمت کو وہ سمجھتا تھا اور اطاعت کی خاطر قربانی دینے والوں کی حفاظت کے لئے وہ کھڑا تھا۔تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اللہ اس بادشاہ سے کم اپنے غلاموں کی غیرت رکھتا ہے۔خدا کی قسم