خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 489 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 489

خطبات طاہر جلد 15 489 خطبہ جمعہ 21 / جون 1996ء نہیں رکھے گا اور یہ وہ امارت ہے جو غیر متزلزل ہے کیونکہ اس کو کلیة اللہ تعالیٰ کی تائید حاصل ہوگی اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اس امارت کا تعلق ایک چھوٹے سے، معمولی افسر کے حکم سے بھی ہو جو کسی خاص معین کام پر مامور کیا گیا ہے۔اگر اس کی نافرمانی کرو گے تو یادرکھو یہ سلسلہ آخر خدا تک پہنچے گا اور جہاں تک اس شخص کی ذات کا تعلق ہے اس کو سمجھنا چاہئے کہ بڑے بڑے لوگ جو میرے سامنے جھک رہے ہیں اس میں میری تو کوئی بڑائی نہیں ، میری تو کوئی بھی حیثیت نہیں ، خدا کی خاطر میری طرف جھک رہے ہیں۔پس اسے مزید خدا کے حضور جھکنا چاہئے اور پھر نافرمانی کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔دنیا کی مثالوں میں اس کی وہ مثال ہے جو حضرت مصلح موعود بار ہا پیش کیا کرتے تھے اور موعود بار کرتے اور میں بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں لیکن وہ مثال ہی ایسی عظیم ہے اور اس موقع پر ایسی چسپاں ہوتی ہے کہ بے اختیار سے بارہا پیش کرنے کو دل چاہتا ہے۔زار جب صاحب سطوت تھا ، جب اس کا رعب بہت کثرت سے وسیع ممالک پر طاری تھا یہاں تک کہ سلطنت برطانیہ کے بعد اگر کوئی حقیقت میں سلطنت کہلاتی تھی تو وہ زار روس کی سلطنت تھی۔اس زمانہ میں ایک دفعہ زار کسی بہت ہی اہم کام میں مصروف ہوا اور اس نے اپنے اردلی کو یا فوجی سپاہی کو بلا کر یہ تاکید کی کہ کسی کو بھی تم نے میرے کمرے میں نہیں آنے دینا خواہ کوئی بھی ہو کیونکہ میں اتنا مصروف ہوں کہ میں اس وقت کسی قسم کی دخل اندازی برداشت نہیں کر سکتا۔اس نے کہا درست اور یہ کہہ کر ، یہ بات سن کر وہ باہر دروازے کی حفاظت پر مامور ہوگیا۔اب خدا تعالیٰ نے ، دیکھیں کیسے اس کی اطاعت کو عظیم نعمت کے، رحمت کے پھل لگائے ، ایسی عظیم جز آ کے پھل لگائے اور ہمارے سامنے کیسا عظیم نمونہ اطاعت کے مضمون کا رکھ دیا اور اس کی گہرائی کو سمجھانے کے لئے یہ واقعہ آج مذہبی دنیا میں بھی بار بارد ہرایا جارہا ہے۔بادشاہ کے یہ کہنے کے بعد جب وہ مصروف ہو گیا کام میں ، تو بادشاہ کا ایک بیٹا ،ایک شہزادہ، وہ اپنے باپ سے ملنے آیا تو وہ معمولی حیثیت کا سپاہی سامنے سینہ تان کے کھڑا ہوگیا کہ شہزادے آپ کو اندر جانے کی اجازت نہیں۔اس کا تو غصے سے پارہ چڑھ گیا۔اس نے کہا تم کون ہوتے ہو، تمہاری حیثیت کیا ہے۔میں اپنے باپ سے ملنے جارہا ہوں۔اس نے کہا آپ کے باپ ہوں یا نہ ہوں ، اس سے بحث نہیں۔مجھے حکم ہے کہ کسی شخص کو میں اندر نہ جانے دوں پس میں آپ کو