خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 477
خطبات طاہر جلد 15 477 خطبہ جمعہ 21 / جون 1996ء اس کے باوجود جو عشق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ سے تھا اس میں بارش کے قطروں کے ان گنت ہونے سے ذرہ بھر بھی اظہار محبت میں کمی نہیں آتی تھی بلکہ آنحضور ﷺ کے متعلق یہ پختہ مصدقہ روایت ہے کہ بعض دفعہ بارش ہوتی تو بارش کا پہلا قطرہ اپنی زبان نکال کے زبان پر لے لیا کرتے اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گاتے۔وہ بارش جو بے انتہا ہوتی ہے جس کے قطروں کا شمار ممکن نہیں اس میں پہلے قطرے کو زبان پر لے لینا ایک بے انتہا عشق کا اظہار ہے۔پس جتنی بھی بارشیں فضلوں کی ہم پر ہوں ہمارا فرض ہے کہ ہر قطرے کو اپنی زبانوں پر ، اپنے دل کی زبانوں پر لیں اور حمد کے گیت گاتے رہیں اس سے زیادہ شکر کا اظہار ہمارے لئے ممکن نہیں ہے اور جہاں تک شکر کے اظہار کا اعمال سے تعلق ہے وہ ایک الگ مضمون ہے۔آنحضرت ﷺ کا اظہار تشکر محض زبان سے نہیں ہوا کرتا تھا۔آپ کی ساری زندگی ایک تشکر کے جذبات میں ڈھل چکی الله تھی۔ساری زندگی تشکر کے جذبات میں اس طرح ڈھل چکی تھی کہ شکر اور محمد رسول اللہ ﷺ کے درمیان کوئی فرق کہیں بھی ممکن نہیں رہا۔اس پہلو سے حضور اکرم ﷺ نے جو پاک نمو نے ہمارے سامنے پیش کئے اب بھی ہمارے لئے وہی راہنما ہیں اور ان نمونوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں آپ کے قدموں کو چومتے ہوئے نقش پا کو چومتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔اس مضمون سے متعلق ایک خطبات کا سلسلہ لندن میں شروع ہوا ، سلسلہ اس لئے کہ وہ ایک خطبہ میں بات ختم نہیں ہو سکتی تھی اور میں نے وعدہ کیا تھا کہ باقی بات میں اگلے خطبہ میں بیان کروں گا۔اگلے خطبہ میں بھی مجھے ڈر ہے کہ یہ بات ختم نہیں ہوسکتی کیونکہ مضمون نسبتا لمبا ہے اس لئے غالباً دو تین یا ہوسکتا ہے چار خطبوں میں یہ مضمون مکمل کرنے کی کوشش کروں۔الله یہ مضمون ہے امام اور ان کو جو اطاعت کرتے ہیں، جو مقتدی ہیں،ان کا رابطہ ،ان کا تعلق۔ان کے درمیان کیا وہ اسلوب ہونا چاہئے تعلقات کا جو آنحضرت ﷺ کے ارشادات اور آپ کی سنت پر مبنی ہو۔اس پہلو سے جہاں تک ان کا تعلق ہے جن کو خدا تعالیٰ نے اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے ان کے متعلق میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں روشنی ڈالی تھی اور بتایا تھا کہ اطاعت کے مضمون میں کیا کیا خطرات درپیش ہیں ، کیسے کیسے نفس سر اٹھاتا ہے اور خود اپنے خلاف فتوے دیتا چلا جاتا ہے۔ایسی ہدایت دیتا جاتا ہے جو انسان کو ہلاکت میں ڈالنے والی ہو اور انانیت کا سر جب اٹھتا ہے تو اس کے