خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 476
خطبات طاہر جلد 15 476 خطبہ جمعہ 21 / جون 1996ء گزشتہ ایک موقع پر میں نے جماعت سے یہ گزارش کی تھی کہ میں امید رکھتا ہوں کہ وہ دن بھی آئیں گے جب ہم دو طرفہ ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے۔پس آج کے مبارک جمعہ سے اس دن کا آغاز ہو رہا ہے۔اس وقت انگلستان میں مختلف مراکز میں بیٹھے ہوئے احمدی دیکھ رہے ہیں اور ان کی تصاویر یہاں پہنچ رہی ہیں اور بیک وقت ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں مگر جو منتظمین Mix کرنے پر مقرر ہیں ان کو یہ خیال کیوں نہیں آرہا کہ جب میں یہ کہہ رہا ہوں تو وہ بھی دکھا دیں جو لوگ وہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔اب یہ بھی دکھائے ہیں تو شیخ مبارک احمد صاحب دکھائے ہیں جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔اب سامنے، اب دیکھ لیجئے امام مسجد فضل لندن عطاء المجیب راشد وہ ہمیں سامنے دکھائی دے رہے ہیں۔وہ مجھے دیکھ رہے ہیں ، میں انہیں دیکھ رہا ہوں۔ان کے پیچھے جو مختلف احباب جماعت لندن کھڑے ہیں وہ بھی ہاتھ ہلا رہے ہیں اور بیک وقت ہم ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں اور مجھے سن رہے ہیں لیکن ان کے دل کی دھڑکنیں مجھے بھی سنائی دے رہی ہیں۔یہ دراصل ایک عظیم پیش گوئی تھی جو ایک پہلو سے تو بارہا پوری ہو چکی اب ایک نئے پہلو سے بھی پوری ہورہی ہے۔حضرت امام صادق سے مروی ہے اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔بہت بڑے بزرگ، بہت پائے کے امام تھے اور عارف باللہ تھے اس میں قطعاً ایک ذرے کا بھی شک نہیں۔آپ نے فرمایا ہمارے امام القائم کے زمانے میں یعنی حضرت مسیح موعود مہدی موعود کے زمانے میں مشرق میں رہنے والا مومن مغرب میں رہنے والے اپنے دینی بھائی کو دیکھ سکے گا، اسی طرح مغرب میں بیٹھا ہوا مومن اپنے مشرق میں مقیم بھائی کو دیکھ سکے گا۔جہاں تک دو طرفہ روایت کا تعلق ہے وہ تو بالبداہت درج ہے اور بعینہ اسی طرح آج ہو رہا ہے لیکن جہاں تک آواز کا تعلق ہے یہ پیش گوئی نہیں تھی کہ دونوں ایک دوسرے کوسن بھی سکیں گے۔پس ایک طرف سے تو یہ آواز بھی پہنچ رہی ہے اور تصویر بھی اور دوسری طرف سے تصویریں بھی پہنچ رہی ہیں اور یہ ابھی آغاز ہے۔آگے انشاء اللہ ایسے دن آئیں گے کہ مشرق و مغرب کی جماعتیں ٹیلی ویژن کے ذریعے اعلیٰ انتظامات کے ذریعے بیک وقت ایک دوسرے کو دیکھ بھی سکیں گی۔ایک ایسا عالمی جلسہ ہوگا جس کی کوئی نظیر کبھی دنیا میں پیش نہیں کی جاسکتی ، نہ کی جاسکے گی۔اب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل اتنے ہیں اور اتنے برس رہے ہیں کہ بارش کے قطروں کی طرح ان کا شمار ممکن نہیں رہا لیکن