خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 445 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 445

خطبات طاہر جلد 15 445 خطبہ جمعہ 7 / جون 1996ء کی طرف بلائے کیونکہ جس کی طرف بلایا اس کے وجود کے متعلق اس نے اپنی تمام قربانیوں کے ذریعے ثابت کر دیا کہ اس کا یقین درست ہے اور فرضی اور وہمی یقین نہیں ہے۔اور بلایا ہے پھر یہ کہہ کر اِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ میں تو مسلمان ہو چکا ہوں۔میں نے تو اپنی فرمانبرداری کی گردن اس رب کے حضور جھکا دی ہے جس کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں۔اس لئے میرا حق ہے اب تمہیں بھی اس طرف بلاؤں۔آؤ اور پھر کیسے اس کو پاؤ گے۔اِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِينَ میں جو مسلمان ہوں تمہیں مجھ جیسا بنا ہوگا۔اگر مجھ جیسا بننے میں دلچسپی ہے تو پھر دعوت کو قبول کرو ورنہ نہ کرو۔تو وسیلے کی اہمیت جو انبیاء کے تعلق میں ہے وہی اہمیت ہر داعی الی اللہ کو حاصل ہو جاتی ہے۔اگر وہ وسیلہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو دعوت الی اللہ کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔پس آپ جب مجھ سے یہ پوچھتے ہیں کہ ہماری دعوت کو پھل نہیں لگ رہے۔لوگ دلچسپی نہیں لے رہے ،لوگ دنیا دار ہو گئے ہیں تو اپنی ذات سے کیوں نہیں پوچھتے کہ آپ کی ذات میں کیوں دلچسپی نہیں لیتے۔جب آپ کوئی دنیا کا فن حاصل کرتے ہیں اور ایسی چیز میں کمال حاصل کرتے ہیں جود نیا کو دکھائی دیتی ہے تو ضرور آپ میں دلچسپی لیتے ہیں۔تو انبیاء نے وہ کیا کر کے دکھایا جس سے غیر مرئی ، مرئی سے بھی بڑھ کر حیثیت اختیار کر گیا۔انہوں نے خدا کی صفات کو اپنی ذات میں جاری کیا ہے اور ان صفات کی طاقت ہے جو ایک وجود میں دکھائی دینے لگتی ہے اور وجود سے دوسرے وجودوں پر اثر پذیر ہو جاتی ہے۔پر اِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِینَ کے دعوے تک پہنچنے سے پہلے عَمِلَ صَالِحًا کی جو منزل ہے اس میں سے گزرنا پڑتا ہے اور جب اس میں سے گزرتے ہیں تو آپ میں خدائی صفات کا جلوہ گر ہونا لازم ہے اور صفات باری تعالیٰ ضرور طاقت رکھتی ہیں۔ان میں صلاحیت ہے کہ وہ دوسرے پر غالب آسکیں تبلیغ میں میرا تجربہ، میرے گردو پیش جو تبلیغ کرنے والے تھے ان کا تجربہ، جن اداروں سے میں منسلک رہا ہوں، جو تبلیغ کے لئے وقف تھے ان کا تجربہ مسلسل بلا استثناء یہی ہے کہ وہ لوگ جو حقیقت میں کچھ خدائی صفات کو اپنا کر باعث کشش بن جاتے ہیں خواہ وہ آن پڑھ ہوں ، خواہ سادہ لباس رکھنے والے ہوں ، غریب ہوں ، ضعیف ہوں ، بات کرنے کا سلیقہ بھی نہ آتا ہو، ان کے اندر ، ان کی تبلیغ میں لوگ زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور وہ جو علم کی شوخیاں دکھانے والے ہیں