خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 38

خطبات طاہر جلد 15 38 38 خطبہ جمعہ 12 جنوری 1996ء تمام طاقتوں کو ہی اس راہ میں نہیں جھونکتے ، جان و مال ہی قربان نہیں کرتے مگر نصرت دے کر کرتے ہیں اور نصرت کا بنیادی تعلق آسمان سے اترنے والی نصرت کے ساتھ ہے جو دعاؤں کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔اس لئے دعا ئیں بھی فرض ہیں۔دین محمد مصطفی عملے کے لئے دل میں درد اتنا پیدا ہونا چاہئے کہ سب دعاؤں سے دین کی دعا فوقیت لے جائے اور جب بھی آپ پریشانیوں میں مبتلا ہوں تو کبھی کبھی اپنا جائزہ لے لیا کریں کہ آپ کو دین کی بھی ویسی ہی پریشانی لاحق ہوتی ہے جیسے اپنے روزمرہ کے کاموں میں ، اپنی مصیبتوں میں ، اپنے قرضوں میں ، اپنی بیماریوں میں لاحق ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو دین کی نصرت فرمائی انہی معنوں میں سب سے بڑھ کر نصرت فرمائی۔ایک موقعہ پر بڑی حسرت سے آپ کہتے ہیں کہ تعجب ہوتا ہے ان لوگوں پر جن کا تمام ہم و غم بس دنیا ہی کے لئے ہے۔اپنی مصیبتوں میں مبتلا ، اپنے قرضوں کے جھگڑوں سے آزادی کی تمنار کھنے والے اور دین کے معاملات سے یا غافل ہیں یا ہلکی سی سرسری سی توجہ ہے، جہاں اپنے لئے دعائیں مانگتے ہیں وہاں ضمنا کہ دیتے ہیں اچھا دین کو بھی فتح عطا فرمادے لیکن وہ دعا ہونٹوں سے اٹھتی ہے، اپنی مصیبتوں میں جو دعا مانگتے ہیں وہ دل کی گہرائی سے مضطر کی دعا بن کے اٹھتی ہے۔آپ نے فرمایا تم دین کے لئے ہم وغم لگالو پھر دیکھ کہ تمہارے کام اللہ کے کام بن جائیں گے۔تم محمد رسول اللہ کی نصرت پر مستعد ہو جاؤ گے تو خدا تمہاری نصرت پر مستعد ہو جائے گا۔بسا اوقات تمہیں خیال بھی نہیں آیا ہوگا کہ میری یہ ضرورت ہے اور آسمان سے اللہ تمہاری ضرورت پوری کر رہا ہوگا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا اصل ہم و غم ، اصل فکر دین محمد مصطفی حملے کے لئے ہے جو اس کی جان کو لگ گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو بہت ہی بلند اور ارفع صورت میں اس طرح بیان فرماتے ہیں۔کہتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ دین پر قربان ہو جانا محض وقتی طور پر اپنی جان قربان کر دینے کو نہیں کہتے۔نہ اس بات کا نام ہے کہ تم دین کے خیال اور غم سے چھرا گھونپ کر مر جاؤیا سنکھیا (کچلہ ) کھا کر جان دے دو۔یہ تو محض جہالت اور ضیاع ہے۔دین کی خاطر مرنا اس کو کہتے ہیں کہ دین کا غم تمہیں ایسا لگ جائے کہ تمہارا وجود گھل رہا ہوا ندراندر۔وہی غم سب سے زیادہ تم پر کڑا گزرے یہاں تک کہ اس غم میں گھل گھل کر تم جان دے دو۔انسان سمجھ رہا ہو گا کہ عام طور پر ایک جان گئی ہے طبعی اسباب نے اپنا اثر دکھایا ہے مگر اللہ جانتا ہوگا کہ یہ جان دین کے غم میں گئی ہے۔اس کو