خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 416
خطبات طاہر جلد 15 416 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء عطا فرماتا ہے، اس کا رب اسے عطا کرتا ہے خرچ کرتا ہے اور کھلے بندوں سر عام بھی خرچ کرتا ہے۔ هَلْ يَسْتَوْنَ کیا وہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں۔ کسی پہلو سے بھی کیا ان میں کوئی برابری ہو سکتی ہے۔ الْحَمْدُ لِله سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ لیکن اکثر ان میں سے جانتے نہیں ۔ اس کے بعد فرماتا ہے۔ وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْ وَهُوَ كَلٌّ عَلَى مَوْلهُ أَيْنَمَا يُوَجِّهُهُ لَا يَأْتِ بِخَيْرِ هَلْ يَسْتَوِى هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (اخل : 77) اس مضمون کو خوب کھول دیا ہے کہ اب یہاں دراصل دنیا کے غلاموں اور خدا کے غلاموں کے درمیان ایک موازنہ کر کے دکھایا جا رہا ہے اور بتایا یہ جا رہا ہے کہ کوئی موازنہ کا پہلو موجود ہی نہیں ہے ۔ ایسا غیر برابر موازنہ ہے کہ کوئی ایک چیز بھی ان دونوں کے درمیان مشابہ نہیں ہے ۔ پس صلى الله عروسه يَا مُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ تو بالبداہت حضرت محمد ﷺ کی صفات ہیں رہنما ۔ سب سے بڑا عدا بڑا عدل کی تعلیم دینے والا پیمبر آپ تھے، سب ۔ سب سے بڑا صراط مستقیم پر چلنے والا آپ تھے ۔ پس میرے نزدیک دنیا کے غلاموں کی حیثیت پہلے ایک طرح بیان فرمائی گئی۔ اب دوسری طرح بیان فرمائی جا رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ ابگم ہے، گونگا ہے اور لَا يَقْدِرُ عَلَى صلى الله شی اس کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ وَهُوَ كَلٌّ عَلَى مَولے وہ اپنے مالک پر بھی ایک بوجھ ہے۔ أَبْگم دراصل علم و حکمت سے عاری ہونے کے لئے فرمایا گیا ہے ۔ گونگا وہ شخص جسے کچھ بیان کرنے کی مقدرت نہ ہو اور آ ہو اور آنحضرت امی ہونے کے باوجود سب سے ز سے زیادہ علموں کے خزانے لٹانے والے تھے۔ پس آپ کے مقابل پر وہ شخص جو بظاہر عالم بھی ہوا گر وہ دنیا کا غلام ہے تو اس سے کوئی بھی فیض دنیا کے لئے جاری نہیں ہوتا ۔ گویا کہ وہ گونگا ہے۔ اس کے پاس کچھ بتانے کے لئے ہے ہی نہیں ۔ اگر ہے تو بیان نہیں کر سکتا ۔ وَهُوَ كَلْ عَلَى مَوْلهُ جو بھی اس کا مالک ہے اس پر وہ بوجھ ہے یعنی جس چیز کا وہ غلام ہے اس کے لئے وہ بوجھ ہے۔ یہ بہت ہی گہرا اور دلچسپ مضمون ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا دار لوگ جو دنیا کے ہو جاتے ہیں اور اس حد تک وہ دنیا پر جھک جاتے ہیں کہ ان کا مالک بھی ان پر اعتماد نہیں کر سکتا اور جو کام ان سے لیتا ہے اس کا فیض ان کو نہیں پہنچتا اور رفتہ