خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 402
خطبات طاہر جلد 15 402 خطبہ جمعہ مورخہ 24 رمئی 1996ء بھی کر لیں تو کیا فرق پڑتا ہے اور جھوٹ کی جرات بدکاری کی جرات میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ایک گناہ دوسرے گناہ پر منتج ہو جاتا ہے۔پس آپ اگر اپنے معاشرے کی خرابیوں پر نظر رکھیں تو بلا مبالغہ آپ یقین کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اکثر بیماریاں ، اکثر گناہ جھوٹ کی سرزمین پر پرورش پاتے ہیں اور جھوٹ کے پانی ہی سے سیراب ہوتے ہیں۔پس جھوٹ کا قلع قمع کریں، اپنی زندگیوں کو سچا بنا ئیں اور اگر آپ اپنی زندگیوں کو سچا بنالیں تو اس دنیا میں جنت حاصل کر لیں گے۔جو سچ میں تسکین دینے کی طاقت ہے وہ دنیا کی کسی اور چیز میں نہیں۔سچائی طمانیت بخشتی ہے۔سچائی سادگی پیدا کرتی ہے۔سچائی قناعت پیدا کرتی ہے۔سچائی نہ ہوتو دکھاوے کی زندگی آپ کو طرح طرح کے قرضوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔طرح طرح کے مصنوعی ایسے طریق اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے جس کی آپ کو استطاعت نہیں ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ یہ جھوٹ نہیں ہے حالانکہ یہ جھوٹ ہے۔سچ صرف یہ ہے کہ خدا نے جو آپ کو دیا ہے وہی آپ کا ہو اور جو آپ کے پاس نہیں ہے دنیا دیکھ لے کہ آپ کے پاس نہیں ہے چونکہ آپ دنیا کی نظر سے ڈرتے ہیں اور دنیا کو اپنا خدا بنا لیتے ہیں اس لئے دینے والا آپ کو کچھ اور دیتا ہے اور جس کو آپ نے دکھانا ہے اس کا اور تقاضا ہے۔آپ پھر قرض لے کر بھی اپنی زندگی کا معیار مصنوعی طور پر بنا لیتے ہیں۔مانگ کر بھی اپنی عزت پر داغ ڈال لیتے ہیں۔قرض لے لے کر اس نیت سے لینا کہ واپس نہیں کروں گا یہ بھی ایک بہت گندی قسم کا جھوٹ ہے۔تو آپ کسی بھی بیماری کا تجزیہ کریں جو روز مرہ ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے تو پہلے اگر آپ کا دھیان اس طرف نہیں بھی گیا تو یہ جھوٹ تھا جس میں آپ زندگی بسر کر رہے تھے تو اب میرے بتانے پر، نشان دہی پر جب آپ دوبارہ غور کریں گے تو آپ اس کو جھوٹ ہی پائیں گے۔ایک سادہ آدمی جو جھوٹا نہ ہو وہ قانع ضرور ہوا کرتا ہے۔ایک آدمی کے گھر میں کچھ بھی نہیں اگر کوئی مہمان آتا ہے تو یہ بالکل جھوٹا خیال ہے کہ اگر آپ اس کی کچھ خاطر نہ کرسکیں تو آپ اس کی نظروں میں ذلیل ہو جائیں گے۔اگر ایک سچا آدمی اپنی غربت کی وجہ سے کسی مہمان کی عزت نہیں کر سکتا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ مہمان اس کی عزت دل میں لے کر واپس جایا کرتا ہے۔کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ اسے ذلیل سمجھے یہ انسانی فطرت کے خلاف ہے۔اس کی سادگی ،اس