خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 401 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 401

خطبات طاہر جلد 15 401 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء لئے بھیجا تھا۔پس دیکھیں کیسی گہری نظر ہے آپ کی۔جو کوئی بات سنتا ہے اسے آگے چلا دیتا ہے فرمایا یہ جھوٹ ہے اور یہ جھوٹ اس کی بربادی کے لئے کافی ہے۔جب تک کسی بات کے متعلق آپ کو یقین نہ ہو ، آپ تحقیق نہ کر لیں ، اسے آگے چلانا گناہ ہے اور بعض دفعہ یہ جھوٹ بہت بڑی بڑی معاشرتی خرابیوں پر منتج ہو جاتا ہے۔ایک بہن نے اپنی بہن کے متعلق کوئی بات سنی ، اگر اس کے دل میں اس کی محبت نہیں ہوگی تو وہ اس بات کو کچا جانتے ہوئے بھی آگے بیان کرے گی۔ایک بھائی جب اپنے بھائی کے خلاف کوئی بات سنتا ہے اگر اس سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو بلکہ معمولی سی پر خاش ہو اور نفرت ہو تو وہ بہت جلد اس کے خلاف بات کو لوگوں میں پھیلائے گا اور اکثر معاشرتی خرابیاں اسی سے پیدا ہوتی ہیں لیکن جہاں اپنے دوست کے متعلق اپنے عزیز کے متعلق کوئی انسان بات سنتا ہے تو اسے آگے نہیں چلاتا اور آگے نہیں پھیلا تا بلکہ اس پر مٹھی کس کر بیٹھ رہتا ہے کہ آگے بات نکلے نہیں اور یہ بھی ایک جھوٹ ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ دونوں باتیں بچی بھی ہوسکتی ہیں اور جھوٹی بھی ہوسکتی ہیں۔مگر اگر آپ نے اپنی نفرت کی وجہ سے کسی کے خلاف بات کو اچھال دیا تو یہ بھی ایک جھوٹ ہے اور اگر محبت کی وجہ سے اس بات کی تحقیق ہی نہ کی اور اس سے آنکھیں بند کر کے بیٹھ رہے تو یہ بھی ایک جھوٹ ہے۔پس آنحضرت ﷺ نے جو فطرت پر بہت گہری اور باریک نظر رکھتے تھے ہر پہلو سے ہمارے گناہوں کو کھنگال کر ہمارے سامنے لاکھڑا کیا ہے اور ہر خطرے سے ہمیں متنبہ فرما دیا ہے۔اب یہ عادت اگر آپ اپنے معاشرے سے دور کر دیں تو منافقوں کو منافقت پھیلانے کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔جتنی قو میں منافقتوں سے ہلاک ہوا کرتی ہیں ان کی ہلاکت کا راز اس بات میں ہے کہ جو بات سنی آگے چلا دی اور اس سے رفتہ رفتہ قوموں کے کر دار تباہ ہو جاتے ہیں ،ان کی ہمتوں کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔فحشاء بھی اسی لئے جھوٹ کی ایک بدترین قسم ہے۔جب آپ بری بات کسی جگہ سنتے ہیں اور سنتے ہی اسے آگے بڑھا دیتے ہیں تو اس سے صرف یہی نہیں کہ آپ جھوٹ کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ وہ معاشرہ جس میں ایسی باتیں عام ہونے لگیں وہاں وہ بدیاں بھی جڑیں پکڑنے لگتی ہیں اور انسان فطرتا یہ سوچتا ہے کہ اگر یہ باتیں چل رہی ہیں، فلاں بھی ایسا کر رہا ہے یا فلاں بھی ایسا کر رہی ہے تو ہم