خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 400 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 400

خطبات طاہر جلد 15 400 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء میں کوئی زندگی باقی نہیں رہے گی۔پس اپنا غور سے جائزہ لیں اپنا گہری نظر سے مطالعہ کریں۔نفس کا اندرونی سفر اپنے جھوٹ کی تلاش میں شروع کریں تو پہلے دن ہی آپ کو بہت سے جھوٹ دکھائی دیں گے اور عجیب بات ہے کہ جب آپ ان کو صاف کر لیں گے تو اس کی تہہ میں پھر کچھ اور بھی جھوٹ دکھائی دیں گیا اور یہ سفر بہت لمبا اور صبر آزما ہے۔بچے لوگ بھی جن کو آپ بہت اعلیٰ درجے کا سچا سمجھتے ہیں جھوٹ کے خلاف نگرانی کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ کسی نہ کسی پہلو سے چھپا ہوا د شمن کسی تہہ میں ضرور موجود ہوگا۔پس نیتوں کے بننے کی آماجگاہ جو دل کی گہرائیاں ہیں یا روح کی گہرائیاں ہیں ان تک جھوٹ کی رسائی ہو جاتی ہے اور جب وہاں جھوٹ پہنچ جائے تو اسی بیماری کا نام دراصل کینسر ہے جو تہہ بہ تہہ درجہ بدرجہ نیچے اتر تا چلا جاتا ہے۔پس اپنے سب پہلوؤں ، سب گوشوں کو صاف کریں اور اس کے لئے آپ کو بیدار مغزی کے ساتھ ، ہوشیاری کے ساتھ ، بہت باریک نظر سے جائزہ لینا ہوگا۔روز مرہ کاموں میں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جو میں باتیں کر رہا ہوں جب تک آپ تجربہ نہ کریں گے آپ کو تصور بھی نہیں ہوسکتا کہ میں آپ سے کیا کہہ رہا ہوں۔خدام الاحمدیہ کے کاموں میں آپ مصروف ہیں وہاں بھی کئی بار جھوٹ بول جاتے ہیں۔کوئی پوچھتا ہے کیوں جی لیٹ کیوں ہو گئے تو بے اختیار دل سے ایک عذر نکل آتا ہے اور اگر ٹھنڈے دل سے غور کریں تو پتا چلے گا کہ وہ عذر پورا سچا نہیں تھا۔اس میں کوئی نہ کوئی پہلو جھوٹ کا موجود تھا۔کوئی سوال کیا جائے آپ سنی سنائی بات آگے پہنچا دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔مگر آنحضرت ﷺ نے جھوٹ کی جو تعریف فرمائی ہے اس میں اسے جھوٹ قرار دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ایک انسان کے لئے یہ جھوٹ کافی ہے جیسا کہ فرمایا: كفى بالمرء كذباً ان يحدث بكل ماسمع کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ جو سنے وہ آگے چلا دے (مسلم باب النهي عن الحديث بكل ماسمع) اب یہ بات جو ہے جو سنے اور آگے چلا دے اس کو جھوٹا کہنا یہ آنحضرت ﷺ کا مرتبہ اور مقام تھا کیونکہ آپ کو شافی مطلق نے اپنی نمائندگی میں تمام بنی نوع انسان کی ہر بیماری کی شفاء کے