خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 399
خطبات طاہر جلد 15 399 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء زندگی میں بھی آپ کا یہی تجربہ ہے کہ بچوں سے آپ کا تعلق بڑھتا ہے خواہ جھوٹے بھی ہوں تو خدا جو جھوٹا نہیں ہے، خدا جو سچ کا سرچشمہ ہے وہ کیسے جھوٹوں سے تعلق قائم کرے گا۔اللہ تعالیٰ سب گناہوں سے بڑھ کر ظلم اور جھوٹ سے نفرت کرتا ہے اور ظلم اور جھوٹ یعنی شرک اور جھوٹ دراصل ایک چیز کے دو نام ہیں۔پس اپنے حالات پر غور کریں ، جائزہ لیں۔میں نے جو کہا کہ آپ اگر جھوٹے بھی ہوں تو بچے کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے یہ بالکل درست بات ہے۔بسا اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ پاکستان کی عدالتوں میں حج خواہ کیسا بھی تھا اس کے سامنے جب ایک آدمی نے وقار کے ساتھ سچائی بیان کی تو وہ اس سے متاثر ہوا اور اس نے صاف لکھ دیا کہ یہ شخص جھوٹ بولنے والا نہیں ہے۔میں اس کی قدر کرتا ہوں اور اس کے حق میں فیصلہ کیا۔تو انسان کی فطرت میں گہری بات، گہرا تعلق دراصل سچائی ہی سے ہے کیونکہ انسان سچائی کی طرف سے آیا ہے۔اللہ کی تخلیق ہے اور اللہ کی صفات کی چھاپ اس کی ہر تخلیق پر ہوتی ہے۔پس آپ نے اگر جھوٹ کا سفر اختیار کیا ہے، جھوٹ کو اپنی زندگی کی عادت بنایا ہے تو فطرت کے خلاف قدم اٹھایا ہے۔ایک بچہ عام حالات میں کبھی جھوٹ نہیں بولے گا۔جب بھی جھوٹ شروع کرے گا کسی سزا کے ڈر سے شروع کرے گا۔جب بھی جھوٹ شروع کرے گا کسی لالچ سے متاثر ہوکر کرے گا۔مگر عام طور پر جس گھر میں جھوٹ نہ بولا جائے وہاں بچے لالچ کے باوجود بھی جھوٹ نہیں بولتے اور خوف کے باوجود بھی جھوٹ نہیں بولتے اور بچے گھروں کا یہ طرہ امتیاز ہوتا ہے کہ ان کے بچے بالکل صاف اور سچی بات کرنے والے ہوتے ہیں۔پس اس منزل سے اپنی سچائی کی حفاظت شروع کریں۔اپنے بچوں پر نگاہ ڈالیں ان کی عادتیں دیکھیں۔اپنے میاں بیوی کے تعلقات پر نظر ڈالیں۔اپنے بہن بھائیوں کے تعلقات پر نظر ڈالیں۔بیوی کے تعلق جو اس کی بہو سے ہیں یا بیوی کا تعلق جو اپنے داماد سے ہے اور اسی طرح داماد اور بہوؤں کا تعلق اپنی ساسوں سے ہے، یہ سارے زندگی کے ایسے رشتے ہیں جن کو جھوٹ کی ملونی گدلا کر دیتی ہے اور زہریلا کر دیتی ہے۔تمام انسانی فساد کی جڑ جھوٹ ہے۔ہر جگہ ظلم اور ستم جھوٹ کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔اگر ایک انسان خواہ کتنا ہی مجرم کیوں نہ ہو یہ قطعی فیصلہ کر لے کہ جو کچھ بھی ہوگا میں نے بہر حال جھوٹ نہیں بولنا تو اسی دن اس کے جرائم کی جان نکلنی شروع ہو جائے گی۔ان