خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 392 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 392

خطبات طاہر جلد 15 392 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء اور یہ کہ بعض لوگوں کو جب جھوٹ کی عادت پڑ جاتی ہے تو پھر وہ عادت ان کو روز مرہ ایسے جھوٹ بولنے پر بھی مجبور کرتی ہیں جس کا کوئی واضح مقصد پیش نظر نہیں ہوتا۔اس لئے آپ اسے یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی با مقصد جھوٹ کی عبادت کی گئی ہے۔جیسے نیک لوگ بھی جب نمازوں کے عادی ہو جاتے ہیں تو بعض دفعہ یہ پتا ہی نہیں ہوتا کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور کیا سوچ رہے ہیں۔بے خیالی میں بھی نماز تو پڑھتے ہیں کہ وہ عادت ہے لیکن بسا اوقات بالا رادہ نماز پڑھی جاتی ہے اور جو بالا رادہ نماز ہوہ کچی عبادت ہے۔جو عادت کی نماز ہو وہ فرض تو پورا کر دیتی ہے مگر حقیقت میں عبادت کی روح نہیں رکھتی۔پس منفی طور پر جھوٹ کی بھی یہی کیفیت ہے۔کبھی تو یہ مخلصانہ غیر اللہ کی عبادت بن جاتا ہے۔کبھی یہ روز مرہ کی عام عبادت بن جاتا ہے جس میں وہ عبادت کا مفہوم کم رہ جاتا ہے اور عادت کا مفہوم زیادہ ہو جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اسی مضمون سے متعلق فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ تمہیں تمہاری قسموں سے متعلق پکڑے گا مگر لغو قسموں کو نظر انداز فرمادے گا۔جو لغو قسمیں ہیں یعنی جھوٹی ، بے ہودہ قسمیں ان پر خدا تمہاری پکڑ نہیں کرے گا۔یہ بھی اس کا احسان ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ قسمیں عادتا کھائی گئی ہیں یعنی جو جھوٹ بولا جارہا ہے یہ عادتا بولا جارہا ہے، اس میں حقیقت کچھ نہیں لیکن آنحضرت ﷺ نے عادتاً جھوٹ بولنے کو بھی ایک نہایت ہی خطرناک بات قرار دیا ہے کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ رفتہ رفتہ جھوٹ بولنے سے ہی عادت بنتی ہے اور جب عادت بنتی ہے تو ایسے انسان کو یہ عادت لازماً جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ” حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے تمہیں سچ بولنا چاہئیے کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے۔انسان بیچ بولتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حضور صدیق لکھا جاتا ہے۔(یعنی یادرکھیں ” سچ بولتا ہے“ کے ساتھ آپ نے فرمایا کہ سچ بولنے کی کوشش کرتا ہے اور کوشش کرنے کے بعد فرمایا یہاں تک کہ وہ خدا کے حضور صدیق لکھا جاتا ہے پس اس میں ہمارے لئے ایک بہت ہی بڑی خوش خبری ہے کہ اگر ہم فوری طور پر اپنے آپ کو جھوٹ سے کلیۂ پاک نہ بھی کر سکیں۔اگر خدا کی خاطر دل