خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 391
خطبات طاہر جلد 15 391 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء پھوٹتی ہیں۔یہ وجہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی علی اللہ نے جھوٹ کا ذکر فرماتے ہوئے بار بار یہ تاکید فرمائی کہ خبر دار جھوٹ سے پر ہیز کرو، جھوٹ سے پر ہیز کرو، جھوٹ سے پر ہیز کرو۔جھوٹ کے متعلق جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ ہر بیماری کی جڑ ہے اور شرک بھی جھوٹ ہی سے پیدا ہوتا ہے اور جھوٹ ہی درحقیقت سب سے بڑا شرک ہے کیونکہ آپ اپنی روز مرہ کی زندگیوں کا گہری نظر سے مشاہدہ کر کے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر جھوٹ جو بولا جاتا ہے وہ کسی جھوٹے معبود کی خاطر بولا جاتا ہے اور فی ذاتہ انسان کو جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہمیشہ سچ بولنا فطرت کے مطابق ہے اور ایک انسان کچی بات کرنا ہی پسند کرتا ہے مگر اس کے باوجود جتنا روز مرہ کی زندگی میں جھوٹ داخل ہو اتنے ہی جھوٹے خدا انسان کی زندگی میں داخل ہو چکے ہوتے ہیں اور جھوٹ ہمیشہ ایک فرضی معبود کی عبادت کی خاطر بولا جاتا ہے مثلاً آپ کو روزمرہ کی باتیں کرتے ہوئے کوئی ایسی بات بیان کرنا ہو جس سے آپ اپنے کسی جرم پر پردہ ڈالنا چاہیں ، وہ خواہ شہادت کے دوران ہو یا بغیر شہادت کے ہو، تو اس وقت آپ جھوٹ کا سہارا لے کر حقیقت سے دنیا کی نظر پھیر دیتے ہیں یعنی جب اپنی نظر حقیقت سے پھیرتے ہیں تو دنیا کو بھی دھوکہ دیتے ہیں اور ایک مقصد حاصل کرتے ہیں اور اللہ کی عبادت اس سے تمام خوبیاں ، تمام نیکیاں ، تمام اچھی باتیں حاصل کرنے کی خاطر کی جاتی ہیں وہ لوگ جن کی زندگیوں سے خدا نکل چکا ہو وہ یہی کام جھوٹ سے لیتے ہیں اور ہر مقصد کو جھوٹ کے ذریعہ سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ جھوٹ کا کاروبار اتنا چل پڑتا ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں داخل ہو جاتا ہے۔سیاست جھوٹی ہو جاتی ہے، تجارت جھوٹی ہو جاتی ہے ،میاں بیوی کے تعلقات جھوٹے ہو جاتے ہیں ، ماں باپ اور بچوں کے تعلقات جھوٹے ہو جاتے ہیں۔دوستوں کے تعلقات جھوٹے ہو جاتے ہیں۔زندگی محض ایک دکھاوا بن کے رہ جاتی ہے اور اس ساری زندگی میں انسان جھوٹ کی عبادت کرتے کرتے دم تو ڑ دیتا ہے اور اسے معلوم نہیں ہوتا کہ میں ایک مشرک کے طور پر اپنے خدا کے حضور حاضر ہونے والا ہوں۔وہ جھوٹ جو فائدہ نہ دے وہ بولا ہی نہیں جاتا۔یہ بنیادی حقیقت ہے جسے آپ یا درکھیں اور روزانہ جتنی مرتبہ آپ کو جھوٹ بولنے کی عادت ہو اتنی مرتبہ ہی آپ شرک میں مبتلا ہوتے ہیں۔پس ہر انسان کی توحید کا معیار اس کے جھوٹ اور بیچ سے پہچانا جائے گا۔ہاں اس میں ایک استثناء بھی ہے