خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 390 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 390

خطبات طاہر جلد 15 390 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء جھوٹ کو دیکھتے تک نہیں کا مضمون اس آیت کے سیاق و سباق میں بالکل صحیح بیٹھتا ہے۔آج خصوصیت کے ساتھ مشرقی قو میں جھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں اور اگر چہ مغرب میں بھی یہ بیماری داخل ہو رہی ہے مگر عملاً دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ہمارے ملک پاکستان میں بھی اور ہمسایہ ملک ہندوستان میں بھی ، بنگلہ دیش میں بھی اور افریقہ کے اکثر ممالک میں بھی جھوٹ اب ایک روز مرہ کی عادت بن چکا ہے اور دنیا میں سب سے بڑی تباہی مچانے والی کمزوری جھوٹ ہے جو ایک عام کمزوری بن کے شروع ہوتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ تمام بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ بن جاتا ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جھوٹ سے باز رکھنے کے لئے جو نصائح فرمائی ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں گناہوں میں سے بڑے گناہوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ یعنی ایسے گناہ جو بہت بڑے ہیں ان میں وہ جو بہت ہی بڑے بڑے ہیں ان کے متعلق میں تمہیں نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کیا ،ضرور بتائیں یا رسول اللہ ے تو آپ نے فرمایا اللہ کا شریک ٹھہرانا ، والدین کی نافرمانی کرنا۔یہ دونوں باتیں بیان فرمانے کے بعد آپ تکیے کا سہارا لئے ہوئے تھے جوش میں آکر بیٹھ گئے اور بڑے زور سے فرمایا الاوقول الزور الاوقول الزور الاوقول الزور الاوقول الزور سنو خبر دارا جھوٹ نہ بولنا، جھوٹ نہ بولنا، جھوٹ نہ بولنا، جھوٹ نہ بولنا۔آپ نے اس بات کو اتنی دفعہ دہرایا کہ ہم نے چاہا کہ کاش حضور خاموش ہو جائیں۔(بخاری کتاب الادب ،باب عقوق الوالدين من الكبائر ) اگر چہ جھوٹ کا ذکر تیسرے نمبر پر آیا مگر سب سے زیادہ حضرت اقدس محمد مصطفی اعلی اللہ نے جھوٹ پر آ کر جوش کا اظہار فرمایا اور بے اختیار بار بار یہ نصیحت فرماتے رہے کہ خبر دار ! جھوٹ کے قریب تک نہ جانا۔وجہ یہ ہے کہ جھوٹ سب گناہوں کی جڑ ہے۔شرک بھی جھوٹ ہی کا نام ہے اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا بھی ایک جھوٹ ہے۔در حقیقت جھوٹ کا جتنا بھی آپ تجزیہ کریں آپ اسی حد تک یہ معلوم کریں گے کہ ہر بدی کی جڑ جھوٹ کی سرزمین ہے۔جھوٹ کی زمین سے ہی تمام بدیاں