خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 365 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 365

خطبات طاہر جلد 15 365 خطبہ جمعہ مورخہ 10 مئی 1996ء کے ساتھ اگر کوئی ظلم ہوا تو تم ذمہ دار ہو اور اس ذمہ داری میں مرنے کے بعد تو جو ہوگا وہ تو اللہ جانتا ہے کہ تم سے کیا سلوک ہو گا مگر تاریخ بھی تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ہمیشہ اگر ہندوستان پر لعنتیں ڈالی گئیں تو ہندوستان سے گزر کر تم پر پڑیں گی کہ تم وہ بد بخت لوگ ہو جنہوں نے ان مظالم کا آغاز کیا تھا۔اس لئے کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے جو آج ہوا ہے۔یہ ایک بہت ہی خطرناک آئندہ رونما ہونے والی تبدیلیوں کا آغاز ہے۔ایسی تبدیلیاں ہیں جن کی داغ بیل رکھی جا چکی ہے۔اور اس وقت اس صورت حال میں جماعت احمد یہ پر سب سے زیادہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ محض اپنی برتری دکھانے کے لئے کہ دیکھو دانے ہمیں سچا کر دکھایا ہرگز کمینگی کا مظاہرہ نہ کریں۔ہماری قدر مشترک ہے۔اسلام کی تہذیب، اسلام کے تمدن، اسلام کی طرز زندگی پر حملہ ہونے والا ہے۔یہاں کسی مسلمان یا کسی مولوی کی بات نہیں ہو رہی۔وہ حملہ ہے جو مجھے دکھائی دے رہا ہے اور اس میں جماعت احمدیہ کو قربانیوں کی صف میں آگے بڑھنا ہوگا۔ہر قیمت پر اس کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی ، اپنے ملک میں بھی اور اس دوسرے ملک میں بھی۔دونوں جگہ اگر کوئی عقل اور نصیحت کی بات کے ذریعے انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو وہ جماعت احمد یہ ہے۔اس لئے کہ کچی جماعت ہے۔اس لئے کہ اخلاص کے ساتھ بات کرتی ہے۔انصاف کے ساتھ بات کرتی ہے اور اخلاص اور انصاف میں اگر آغاز میں طاقت نہ بھی ہو تو اس کی ذات میں یہ طاقت ہے کہ وہ بڑھتا جاتا ہے۔اس کی ذات میں غلبے کی طاقت موجود ہے۔پس اس پہلو سے جماعت احمدیہ کو سب سے پہلے دعاؤں کی طرف متوجہ ہونا چاہیئے اور پھر یہ یقین ہمیشہ اپنے دل میں قائم رکھنا چاہئے کہ انقلاب جو بھی رونما ہوں گے ضرور ہے کہ دکھوں سے ہم گزریں اور ابتلاؤں میں گھیرے جائیں۔مگر جماعت احمدیہ کا جہاں تک تعلق ہے ہمارا خدا کبیر بھی ہے اور متعال بھی ہے اور انجام کا رہمارے لئے ہر گز نہ مایوسی ہے، نہ ناکامی ہے۔مگر رستوں کی تکلیفیں تو بہر حال رستے میں آئیں گی۔سر بلندیوں کے دعوی کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم چڑھائیاں چڑھو اور تمہیں کوئی تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔چڑھائیوں کے اپنے کچھ آزار ہوا کرتے ہیں ان آزار میں سے تو گزرنا پڑتا ہے۔پس اس پہلو سے دعائیں کرتے ہوئے آگے بڑھیں اور نصیحت کے ذریعے قوم کو دکھانا شروع کریں کہ کیا ہورہا ہے۔