خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 358 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 358

خطبات طاہر جلد 15 358 خطبہ جمعہ مورخہ 10 مئی 1996ء دو بڑے منصف تھے جن کا تعلق پاکستان کی سپریم کورٹ سے تھا یعنی جسٹس منیر اور جسٹس کیانی، یہ دونوں بہت بلند عالمی شہرت کے مالک اور ایسے جج تھے جن کے متعلق تمام دنیا میں ان کی قانون دانی ہی کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا بلکہ ان کی ذات کی عظمت، ان کی شرافت، ان کی بلند اقدار کی بھی ہمیشہ عزت کی گئی ہے۔کبھی ان کے اوپر کوئی طعن کا داغ آپ لگتا ہوا نہیں دیکھیں گے۔بڑے صاحب فراست تھے اور عدلیہ کے مضمون کو خوب سمجھتے تھے۔انہوں نے جو 1953ء کے فسادات کی تحقیق کا مطالعہ کیا تو یہ سمجھ گئے کہ ملاں بہت بڑے فساد کی طرف ہمیں ہی نہیں بلکہ ہندوستان کو بھی لے جا رہا ہے۔چنانچہ معین طور پر ہر مولوی سے یہ سوال کیا گیا کہ دیکھو تم کہتے ہو اسلام کی بالا دستی کے نام پر تمہیں حق ہے کہ شریعت کو جیسا تم سمجھو، خواہ اس شریعت کو قبول کرنے والا اس سے اختلاف بھی رکھتا ہو اور قرآن ہی کے حوالے سے شریعت کو کچھ اور سمجھتا ہو، مگر تمہیں حق ہے کہ تم جیسا شریعت کو خود سمجھتے ہو دوسرے پر اسی شریعت کو ٹھونسو خواہ وہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف بات ہو۔انہوں نے کہا ہاں بالکل ہمیں حق حاصل ہے۔ایک نے بھی نہیں کہا کہ نہیں ہمیں حق حاصل نہیں۔ہر ایک کی شریعت کا تصور مختلف تھا۔ہر ایک نے یہ اقرار کیا اور بڑے زور اور فخر کے ساتھ سر بلند کر کے کہاہاں ہمیں اختیار ہے ہم شریعت کو زیادہ سمجھتے ہیں اور جو سمجھتے ہیں خدا کے نام پر اسے جاری کرنے کا ہمیں حق ہے اور یہ ہما را دستوری اور جمہوری حق ہے ، صرف مذہبی حق نہیں۔اس کے جواب میں ہمیشہ ان سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر یہ جمہوری اور بنیادی حق ہے محض اسلام سے اس کا تعلق نہیں تو کیا آپ ہندوستان کے ہندوؤں کو یہ حق دیں گے کہ وہ اپنے مذہب میں خصوصیت سے منوسمرتی کے حوالے سے وہ قوانین مسلمانوں پر جاری کریں جو ہر غیر ہندو پر جاری کرنے کا ان کا مذہبی حق ہے اور ان تمام بنیادی حقوق سے مسلمانوں کو محروم کر دیں جو ہندو مذہب کی انتہا پسند کتا ہیں مسلمانوں کو دینے پر آمادہ نہیں ہیں یا کسی غیر ہندو کو دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ہر مسلمان مولوی کا یہ جواب تھا ”ہاں یہ حق حاصل ہے۔اس پر انہوں نے کہا کہ تمہیں کوئی خدا کا خوف نہیں ہے، ذرا بھی حس نہیں کہ کروڑوں مسلمان تم ہندوستان میں پیچھے چھوڑ کے آئے ہو۔یہاں تم ایسا ظالمانہ موقف اختیار کرو گے تو کل ان پر کیا بنے گی۔ان کے خون کی ہولی کھیلی جائے گی اور تم ذمہ دار ہو گے کیونکہ تم نے جو اپنی ٹیڑھی سوچ کو شریعت کے نام پر پاکستان میں نافذ کرنے کی کوشش کی ہے