خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 30 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 30

خطبات طاہر جلد 15 30 خطبہ جمعہ 12 /جنوری 1996ء ڈالی ہے اس کا عشر عشیر بھی کہیں دکھائی نہیں دے گا اور جو اندھا ہو، بدنصیب ہو، وہ جاہل انہیں باتوں پر آنحضرت ﷺ کو اعتراض کا نشانہ بناتا ہے۔ایسے بدبخت پیدا ہو جاتے ہیں جو نام رشد کا رکھتے ہیں اور مجسم ذلالت ہوتے ہیں۔مذاق اڑاتے ہیں، طرح طرح کے آوازے کستے ہیں کہ دیکھو یہ کیسا رسول ہے جس نے وضو کی تفصیل بھی سکھائی ہے یہ بھی بتایا ہے کہ یہاں اس طرح کرو گے تو وضو ٹوٹ جائے گا، یہ بھی بتایا کہ دیکھو ایڑی کا خیال رکھنا ، یہ حصہ جہنم میں نہ چلا جائے ، اتنی بار یک تفصیل کون انسان ان پابندیوں میں جکڑنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کر سکتا ہے۔بڑی مصیبت ہے ، بڑا مصیبت کا مذہب ہے۔حالانکہ اس مضمون کو آپ دوسرے زاویے سے دیکھیں تو اتنا کامل مذہب ہے،اتناAdvanced مذہب ہے کہ کوئی باریک سے باریک ایسا خطرہ نہیں جو ایک مسافر کو رستے میں پیش آسکتا ہو جس کے متعلق کھلے کھلے سائن بورڈز نہ لگا دیئے گئے ہوں روشن حروف میں نہ لکھا گیا ہو اور تفصیل میں خطرات سے آگاہ کرنا اور تفصیل کے ساتھ اس منظر کی خوبیوں پر آگاہ کرنا جس منظر کی تلاش میں انسان نکلا ہے، جس سیر پہ انسان روانہ ہوا ہے، یہ انتہائی ترقی یافتہ صورتیں ہیں نہ کہ وہ جیسے ایک جاہل کو نظر آرہا ہے کہ دخل اندازی ہو رہی ہے۔اب وہی جاہل جب انگلستان میں یا امریکہ کی سڑکوں پر موٹر پر روانہ ہوتا ہے تو کبھی اس کو خیال بھی نہیں آیا کہ کس مصیبت میں مبتلا ہو گیا ہے۔جگہ جگہ بورڈ لگے ہوئے ہیں کہ یہاں خطرہ ہے آگے ٹریفک بند ہو رہی ہے ، آگے پھسلن آگئی ہے، آگے Black lce ہے ، آگے موڑ بڑا سخت ہے تو اس کو تو اس ملک کو چھوڑ کر بھاگ جانا چاہئے۔ایسا جاہلانہ ملک کوئی باریک سے بار یک چیز بھی نہیں ہے جس کو چھوڑ دیا گیا ہو اور ہدایتیں ہیں، سیر پر جارہے ہیں کہ دیکھو فلاں پہاڑی میں فلاں جگہ دیکھنا نہ بھولنا، وہاں ایک غار بھی ہے،اس غار کا منظر بڑا ہی خوبصورت ہے۔اس میں آواز دو گے تو نیچے سے تمہیں اپنی آواز سنائی دے گی اور اس رنگ میں سنائی دے گی جیسے وہ کئی آوازیں بن چکی ہیں اور ایک کے بعد دوسری، تیسری، چوتھی ایک کم گہرائی سے پھر دوسری زیادہ گہرائی سے، پھر اس سے زیادہ گہرائی سے آواز آئے گی۔ایک حیرت انگیز گوش کی جنت یعنی کانوں کی جنت بن جاتی ہے۔یہ شخص وہاں پہنچے، دیکھے کہے کیسا پاگلوں والا ملک ہے ہر خوبصورت جگہ کی تفصیل بے ضرورت خواہ خواہ بیان کی ہوئی ہے۔ہم باشعور لوگ نہیں ہیں؟ کیا یہ ترقی یافتہ زمانہ نہیں ہے؟ کیا ہم خود نہیں سمجھ سکتے کہ فلاں چیز دیکھنی ہے اور فلاں نہیں دیکھنی۔