خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 347
خطبات طاہر جلد 15 347 خطبہ جمعہ مورخہ 3 مئی 1996ء کہ اس کو نظر آیا کہ خدا ان کے ساتھ ہے اور اس کی زندگی کی کایا پلٹ گئی۔جود ہر یہ تھاوہ نہ صرف باخدا ہوا بلکہ اس نے پہچان لیا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں خدا ملے گا۔پس باخدا لوگوں کے تجارب بھی تو دنیا کے سامنے پیش کرنے ہیں اور ہر ملک سے پیش ہونے چاہئیں۔ہر جگہ خدا کے فضل ایسے نازل ہورہے ہیں جہاں یہ تجارب بڑی قوت کے ساتھ لوگوں کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ سچ ہیں۔پس سچائی کی طاقت ہے جو تو حید کی تائید کے لئے آپ کے کام آئے گی۔جھوٹ اور مکر کی طاقت ہے جو مشرکین کے کام آ رہی ہے۔تو یہ ٹکر ہے اور اس چیلنج کو ہم نے قبول کیا ہے اور کریں گے اور توحید کی خدمت کے تمام تقاضے پورے کریں گے۔ہم ان بزدلوں میں سے نہیں ہیں جو یہ دیکھ کر کہ دشمن بڑا طاقت والا ہے، پیٹھ دکھا سکیں۔ہم تو حید کے لئے سینہ سپر ہو کر آخری دم تک کوشش کرنے والے لوگ ہیں۔کبھی دنیا ہمیں پیٹھ دکھاتے ہوئے نہیں دیکھے گی۔پس اس کے وہ طریق اختیار کریں جو خدا تعالیٰ نے ہمیں سکھائے ہیں قرآن کریم میں اور اسی آیت کے اندر یہ مضمون ہے کہ تم اگر سچائی سے چمٹ جاؤ گے تو یہ توحید کا نشان ہے اور یہ شرک کو اجازت نہیں دے گا کہ تمہارے اندر داخل ہو جائے۔اب یہ سچائی کا مضمون بھی بہت پھیلا پڑا ہے وہ لوگ جو گندگی اختیار کرنے والے ہیں آپ ان کے معاشرے میں جا کر دیکھیں، ان کی باتیں سنیں اکثر جھوٹ کے عادی ہوتے ہیں۔ان کے بچے ان کے بڑے بات بات پہ جھوٹ بولتے ہیں اور اس سے لطف اٹھاتے ہیں۔ان کی مجالس میں اکثر جھوٹ کی بکواس کو مذاق سمجھا جاتا ہے اور کوئی عار ہی نہیں رہتی جھوٹ ہے۔تو وہ جو کلام کا جھوٹ سے وہ ان کی زندگی کا جھوٹ بن جاتا ہے۔وہ زہر ان کی رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے۔وہ منحوس تصویریں ابھرتی ہیں جو دنیا کے ایسے ہیروز کی ، ایسے ادا کاروں کی پرستش کرنے لگتی ہیں جن کو دنیائے اداکاری میں بھی کوئی مقام حاصل نہیں ہے۔جن کے سکرپٹ لکھنے والے بے ادب لوگ یعنی ادب سے عاری اور بے ادب۔وہ شعریت کے نام پر شعریت کا ستیا ناس کر دیتے ہیں۔ایسا بھونڈا مذاق ہے کہ کوئی شریف انسان جس میں ذرا بھی ذوق کی قدر ہو وہ تھوڑی دیر بھی یہ پروگرام دیکھ نہیں سکتا۔لیکن مذاق بگاڑ دیئے گئے ہیں۔تو ایک بات یاد رکھیں کہ ہم نے اپنے معاشرے اور اپنی تہذیب کو اور تمام دنیا کی جماعتوں کو جھوٹ سے پاک کرنا ہے اور جھوٹ سے پاک کرنے کی مہم جاری ہونی چاہئے اور اگر طبیعت میں سچائی