خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 342
خطبات طاہر جلد 15 342 خطبہ جمعہ مورخہ 3 مئی 1996ء زندگی جھوٹ ہے۔ایک مصنوعی کھوکھا سا بنا ہوا ہے اس کے اندر کچھ بھی نہیں اور ان کے متعلق باتیں اس فخر سے بعض لوگ اپنے اخباروں میں اچھالتے ہیں، پاکستان کے مسلمان اخبار، اور اس طرح ان کی تصویریں روزانہ شائع کرتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ ان کو کوئی ہوش ہی نہیں کہ کتنا زندگی میں تضاد پیدا ہو چکا ہے اور یہ بت روزانہ اخبار بھی ان کو مہیا کرتے ہیں، وہ پھر کاٹ کاٹ کے بچے اپنے ڈرائنگ روم میں سجاتے ، اپنی دیوار میں ان سے کالی کرتے ہیں۔تو ایک طرف یہ رجس ہے جو ٹیلی ویژن کے ذریعے گھروں میں داخل ہو گیا ہے اور ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کا وہ قبلہ بن چکا ہے ان کی طبیعتوں پر گراں ہے یہ بات کہ ہم نے اپنا رخ بدل لیا ہے۔کبھی کبھی وہ دونوں طرف قدم رکھ لیا کرتے تھے۔اکثر گند دیکھ لیا کبھی وہ اس طرف بھی نگاہ ڈال لیا کرتے تھے کہ دیکھیں یہاں کیا آ رہا ہے۔کس حد تک ہم میں بور ہونے کی طاقت ہے۔تو دم گھٹ کر جس طرح انسان غوطے مارلیا کرتا ہے ایسے گھروں میں یہ بھی ہوتا تھا کہ وہ دم گھٹ کر ٹیلی ویژن MTA کو دیکھ کر کچھ نہ کچھ اپنے گند کو صاف کرنے کا انتظام کر لیا کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ تو پھر اس نظام پر راضی نہیں رہتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو اس جھوٹ پر اس گند پر راضی ہوں اللہ اس کو بڑھا دیا کرتا ہے۔یہ قانون قدرت ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلى رِجْسِهِمُ وہ لوگ جن کے دل بیمار ہو گئے ہوں خدا کی یہ تقدیر ہے کہ ان کے رجس پر اور رجس کا اضافہ کرتا ہے ان کے دل کے خبث ، ان کے دل کی گندگی ، ان کی دنیا پرستی پھر کم نہیں ہوا کرتی وہ بڑھتی رہتی ہے اور یہی وہ صورت حال ہے جو نہایت بھیانک طریق پر پاکستان کے امیر خاندانوں کو مکمل اپنے پنجے میں جکڑے ہوئے ہے، شکنجے میں آئے ہوئے لوگ ہیں۔پاکستان اتنی خوفناک تہذیبی خود کشی کر چکا ہے کہ ان کے پاس اس کا کوئی بس نہیں، کوئی اس کا تو نہیں۔اس لئے تو ڑ نہیں کہ اگر ایسی قوم جس کا ذوق بد ہو چکا ہو جو کھلے عام گندگی کرے اور دعوتیں دے اپنے دوستوں اور حلقہ احباب کو کہ آؤ فلاں رات ہم ساری رات ٹیلی ویژن پر ہندوستانی فلمیں دیکھیں گے آ جاؤ اور شامل ہو جاؤ تو قوم کا باقی کیا ر ہے گا۔ایک طرف مولویت ہے جو بپھر رہی ہے اور زور مار رہی ہے۔مولویت کا سارا زور اس بات پر ہے کہ صرف اس ایک ٹیلی ویژن کو بند کر دیا جائے جو خدا اور خدا کے رسول مل ہی کی طرف بلائے۔ایک طرف یہ اعلان ہو رہے ہیں کہ اتنے چینل 136