خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 341
خطبات طاہر جلد 15 بے بہرہ ہو گئے ہیں۔ 341 خطبہ جمعہ مورخہ 3 مئی 1996ء امر واقعہ یہ ہے کہ ہندوستانی فلموں میں ادبی لحاظ سے بھی ایسی مکروہ چیزیں ہیں اور زبان کا معیار اتنا گرا ہوا ہے کہ جس قوم کو اپنی زبان سے پیار ہو، جس کو اپنی اعلیٰ قدروں کا خیال ہو وہ یہ برداشت ہی نہیں کر سکتی کہ ان کی نئی نسلیں اپنا کلچر، اپنا ادب، اپنی شعریت، اپنا مذہب، اپنی روحانی، اخلاقی قدریں ساری کی ساری ہندوستانی فلموں کی نذر کر دیں۔ یہ جب گندگی مزید بڑھتی ہے تو آپ حیران ہوں گے یہ دیکھ کر کہ ان گھروں میں ہندو ایکٹروں کی ، ہندو ایکٹرسوں کی تصویر میں بڑی بڑی چارٹ کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں۔ بعض لڑکیوں اور لڑکوں کے کمروں میں ، لڑکوں کے کمروں میں ایکٹرسوں کی تصویر میں اور لڑکیوں کے کمروں میں ایکٹروں کی تصویر یں اور بڑے فخر سے لگاتے ہیں اور ماں باپ دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں بڑے ہوشیار بچے ہیں ، کہاں سے تصویر حاصل کی تم نے، خوب گھر سجایا ہے۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ قرآن کریم کی اس آیت نے چودہ سو سال پہلے اعلان کر دیا تھا کہ رجس جو ہے یہ بتوں میں ضرور تبدیل ہوگا۔ یہ بد بخت بہت تم نے اپنے گھر میں پال لئے ہیں۔ ان لوگوں کے کردار کو نزدیک سے دیکھو تو کوئی شریف آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ان کے ساتھ آنا جانا رکھے، ان کو اپنے گھروں میں بلائے ، ان کے گھروں میں جائے ان کی دنیا ہی اور ہے صرف مادہ پرستی ہے، صرف بے حیائی کو ترغیب دیتا ہے، صرف بناوٹ ہے، سچائی تو قریب تک نہیں پھٹکی اور یہ جو بناوٹ ہے یہ جھوٹ ، جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ دیکھیں قرآن کریم کی آیات نے اتنی صفائی کے ساتھ اس مضمون کے ہر پہلو کو کھول دیا تھا۔ فرمایا دیکھو فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ تم رجس سے تو بچ رہے ہو، تمہیں بیت اللہ نے یہ تعلیم دے دی کہ رجس کے ساتھ یہاں نہیں آنا۔ رجس کو ترک کرو اور ہمیشہ کے لئے صاف کرو اپنے بدن سے، اپنی روح سے اور یا درکھو خاص طور پر بچو الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ ایسے رجس سے جو لازماً بتوں کی طرف لے جائے گا۔ بت پرستی کے رجس سے بچو۔ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ اور جھوٹ سے بچو۔ تو ہندوستانی فلموں کی پرستش کرنے کے نتیجے میں ، ان ایکٹروں اور ایکٹرسوں کی پرستش شروع ہو چکی ہے، جو خود اپنی ذات میں ایک جھوٹ کا ملمع ہیں ، جھوٹ کا مجسمہ ہیں۔ ایکٹنگ ہے ہی جھوٹ ۔ ان کے بیانات آپ پڑھ لیں ، ان کے متعلق اخباروں میں ان کے تبصرے پڑھ لیں ،ساری