خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 336 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 336

خطبات طاہر جلد 15 336 خطبہ جمعہ مورخہ 3 مئی 1996ء ایک خانہ کعبہ کی حرمت ہے اور شعائر اللہ کی حرمت ہے جو ان کے تقدس کی وجہ سے ہے اور ان سے احتیاط کا معاملہ ہے۔ایک خبیث اور گندی چیزوں کی حرمت ہے ان سے بچنا اس حرمت کا تقاضا ہے اور ان سے دور رہنا اس حرمت کا تقاضا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو یہاں تم روح کی بالیدگیوں اور گندگیوں سے پاک صاف ہو کر پہنچے ہو اور تمہیں ایک روحانی رزق مل رہا ہے۔تمہیں جسمانی رزق بھی اسی حوالے سے عطا کیا جا رہا ہے اور جسمانی رزق جو عطا کیا جا رہا ہے اس میں پاکیزگی پیش نظر رکھی گئی ہے۔تمہارے لئے صرف وہ چیز میں حلال کی گئی ہیں جو پاکیزہ ہیں۔جو گندگی کا پہلو رکھتی ہیں ان کو تمہارے لئے حرام فرما دیا گیا اور گند کے مضمون کو جو جسمانی گندگی سے تعلق رکھتا ہے روحانی گندگی کے مضمون کی طرف منتقل فرماتے ہوئے فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ اس موقعہ پر حضور کی خدمت میں اطلاع دی گئی کہ مواصلاتی رابطہ کے ذریعہ خطبہ کی تصویر باہر نہیں جارہی۔حضور نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جو ہمارے سامعین اور ناظرین ہیں دنیا بھر میں ان کو آواز تو صاف جارہی ہے اور وقتی طور پر تصویر نہیں دیکھ سکتے، وہ انشاء اللہ ٹھیک ہو جائے گا تصویر بھی دیں گے اور دوبارہ اس خطبے کی وڈیو دکھائی جائے گی تو آواز اور تصویر کے ساتھ وہ اکٹھا دیکھ بھی سکیں گے اور سن بھی سکیں گے۔اس کے بعد حضور نے خطبہ کے مضمون کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:۔) میں یہ بیان کر رہا ہوں کہ قرآن کریم نے حج کے مضمون میں حرمت کے لفظ کو اس طرح مضمون کے ایک پہلو سے دوسرے پہلو کو باندھا ہے اور اس سے پھر دوسرا پہلو یا تیسرا پہلو نکال لیا ہے۔ایک ایسا دھاگہ ہے حرمت کے مضمون کا جو ہر بدلتے ہوئے مضمون میں مشترک ہے اور بظاہر الگ الگ باتیں ہو رہی ہیں لیکن بنیادی طور پر یہی بات ہے جو آگے جاری وساری ہے۔اس تعلق میں میں نے بیان کیا کہ اللہ کی طرف سے جن چیزوں کو محرم کر دیا گیا ہو ان کی عزت لازم ہے اور اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو حرم فرما دیا اور بیت اللہ سے تعلق والی بہت سی اور باتیں ہیں جو محرمات میں شامل ہو گئیں۔حرمت کا دوسرا معنی ہے گندی اور ناپاک چیزوں سے اجتناب ، تو پہلے معنوں کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس محرم گھر میں کوئی گندی چیز داخل نہ ہو، کوئی ناپاک چیز نہ ہو اور قربانیاں جن کا گوشت تمہارے لئے حلال فرمایا گیا ہے اللہ تعالیٰ تسلی دیتا ہے کہ وہ پاک چیزیں ہیں اسی لئے خانہ کعبہ تک ان