خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 329
خطبات طاہر جلد 15 329 خطبہ جمعہ 26 اپریل 1996ء ياليت كانت قوة الطيران اگر جسم ہی ہوتا تو یہ کیوں کہتے کہ مجھے کاش اڑنے کی طاقت نصیب ہوتی۔مراد یہ ہے کہ دل اس طرح اڑتا چلا جا رہا ہے گویا جسم بھی ساتھ ہی لپٹا ہوا ہے۔اتنا ولولہ ہے اتنا جوش ہے مگر اے حسرت ! کاش مجھے طاقت ہوتی میں واقعہ اسی طرح اڑتا ہوا تیرے حضور حاضر ہو جاتا۔یہ عشق کے سودے ہیں۔پس عشق میں جو رستے کھلتے ہیں وہاں جسم کو آگے بڑھنے کی توفیق ہو یا نہ ہو دل بڑھتے چلے جاتے ہیں روحیں لیکتی ہوئی آگے بڑھتی ہیں۔پس جتنی بھی قربانی کی راہیں آپ کو دکھائی جاتی ہیں اگر آپ یہی جذبہ اپنے دل میں پیدا کرنا چاہتے ہیں اسی طرح لبیک اللھم لبیک کہنا چاہتے ہیں جواب حج کے دنوں میں تمام دنیا سے صدائیں بلند ہوں گی تو محبت کے سودے کریں۔حج بھی محبت ہی کا سودا ہے۔اول سے آخر تک محبت کی کہانی ہے جو اس حج میں دہرائی جائے گی۔سرمنڈا کر ایک بے سلے کپڑے میں لیٹے ہوئے، دیوانہ وار ننگے پاؤں لوگ طواف کریں گے بیت اللہ کا۔لبیک اللھم لبیک کی آوازیں بلند کرتے ہوئے لا شریک لک لبیک لک الحمد اور پھر و النعمۃ ہے ایک لفظ اور میرے ذہن سے اتر گیا ہے مگر بہر حال یہ جو تلبیہ ہے بار بار اس کی آوازیں بلند ہوں گی یہ محبت کے سودے ہیں۔سارا نقشہ ہی محبت کا ہے۔تو دین کا انجام محبت ہے دین کا آغاز محبت ہے۔بچہ پیدا ہوتا ہے تو سر منڈا دیا جاتا ہے پیدا ہوتا ہے تو ایک کپڑے میں لپیٹ دیا جاتا ہے جب اس کو دوبارہ روحانی ولادت نصیب ہوتی ہے تو پھر وہ سر منڈا کر ایک کپڑے میں لپٹا ہوا خدا کے حضور حاضر ہوکر لبیک اللهم لبیک کی آوازیں بلند کرتا ہے۔یہ ہے دین کا خلاصہ جس کی تعریف عشق کے سوا ممکن ہی نہیں ہے۔کوئی دنیا کا فلسفہ عشق کے سوا اس کی اور کوئی تعبیر نہیں کر سکتا۔پس خدا کی راہ میں جو کچھ بھی خرچ کریں محبت اور عشق کے جذبے سے خرچ کریں۔اس کا ایک بہت بڑا فائدہ آپ کو یہ پہنچے گا کہ کبھی دل میں کسی قسم کا تکبر پیدا نہیں ہوگا کیونکہ جو عشق کی خاطر خرچ کرتا ہے وہ قبولیت پر بہت ممنون ہوا کرتا ہے۔وہ قبولیت پر احسان نہیں جتاتا بلکہ اس کی خدمت، اس کا تحفہ قبول ہو تو زیرا احسان ہو کر اس در سے لوٹا کرتا ہے۔پس خدا کے حضور جو محبت سے قربانیاں آپ پیش کریں گے ہمیشہ احسان کے جذبے سے لدے ہوئے اور