خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 323
خطبات طاہر جلد 15 323 خطبہ جمعہ 26 اپریل 1996ء دکھاوا ہے، دنیا کے کھیل ہیں اس سے زیادہ کوئی بھی حقیقت نہیں۔پس نہ دنیا کمائی جاتی ہے نہ دین کمایا جاتا ہے نہ انسان کی محبت جیتتا ہے ایسا شخص نہ اللہ کی محبت حاصل کرتا ہے: نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے یہ شعر ہے جو ایسے لوگوں کے حال پر صادق آتا ہے پس اللہ تعالیٰ بار بار قرآن کریم (مرزا صادق شرر ) میں سدا کے ساتھ علانیہ کا بھی ذکر فرماتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر میسا ہی ضروری ہے اور اس قدر کی حفاظت کے لئے لازم ہے کہ ہم چھپا کر پیش کریں تا کہ ہمیں یقین رہے کہ خدا د یکھ رہا ہے اور یہی کافی ہے۔اگر اس یقین سے ہمارے دل سرور سے بھر جاتے ہیں تو پھر ہمیں علانیہ کا حق ہے ورنہ نہیں اگر ہمارے مخفی ہاتھ کی قربانی ہمیں پوری لذت عطا نہیں کرتی بلکہ خلا سا محسوس کرتے ہیں تو پھر اگر ہم نے علانیہ قربانی کی تو مخفی قربانی میں جتنا نیکی کا حصہ تھا وہ بھی ضائع ہو جائے گا کیونکہ علانیہ پھر جب جائے گا وہ نیت کے اندر ایک بیماری کا کیڑا ہے جو بالآ خر نیت کو کھا جاتا ہے۔پس قرآن کریم نے سیڈا کو اس لئے پہلے رکھا ہے اور عَلَانِيَةً کو اس لئے بعد رکھا ہے کہ یاد رکھو مخفی قربانی اصل ہے۔خدا کی خاطر ، صرف خدا کی خاطر قربانی کرو کوئی اور دیکھے نہ دیکھے تمہاری بلا سے کوڑی کا بھی فرق نہ پڑتا ہو۔ہاں کبھی یہ فرق ضرور پڑ جائے کہ دیکھے تو تمہیں تکلیف محسوس ہو، کسی کو علم ہو تو تم بے چینی محسوس کرو۔یہ سرا کی قربانی ہے اور ایسی قربانی کرنے والوں کی علانیہ قربانی ہر خطرے سے محفوظ ہو جاتی ہے بلکہ بعض زائد فائدے اپنے اندر رکھتی ہے۔پھر ایسے لوگ جو کمزور ہیں جن کو پتا نہیں کہ لوگ بڑھ بڑھ کر کیسی قربانی کر رہے ہیں ان کے اندر جو استباق کی روح ہے وہ بیدار نہیں ہوتی۔علانیہ کے نتیجے میں دو باتیں پیدا ہوسکتی ہیں اول دکھاوے کی خاطر قربانیاں کرنا۔اس کو تو خدا رڈ ہی کر چکا ہے جب سیڈا کا ذکر پہلے کر دیا تو دکھاوے کا دور کا بھی تصور اس آیت کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔پھر علانیہ کا دوسرا فائدہ کیا ہوتا ہے وہ یہ کہ ایک دوسرے سے نیکیوں میں بڑھنے کا جو حکم قرآن کریم نے دیا ہے وہ حکم انسان کو جھنجھوڑ کے جگا دیتا ہے۔انسان کہتا ہے میں تو غفلت میں پڑا رہا، میرا فلاں بھائی خدا کی راہ میں اتنا آگے بڑھ گیا۔اس نے یہ قربانی پیش کر دی وہ قربانی پیش کر دی۔تو