خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 322
خطبات طاہر جلد 15 322 خطبہ جمعہ 26 اپریل 1996ء ہے آپ کہیں گے ٹیکس جب ہم دیتے ہیں تو کیا قدر ملتی ہے جب ٹیکس دیتے ہیں تو ساری قوم کی طرف سے جو تحفظ ملتا ہے جو بنی نوع انسان کے فائدے کے، رفاہ عامہ کے کام کئے جاتے ہیں ملکوں میں جو حفاظت کا نظام قائم ہے فوج اور پولیس کے ذریعے اور عدلیہ کے ذریعے ان کے پیسے کہاں سے آتے ہیں۔وہی جو ہم ٹیکس دیتے ہیں اس کی قیمت ہے۔پس یہ وہم ہے کہ ہم بغیر قیمت کے اپنا روپیہ پھینک سکتے ہیں سوائے ایک سودے کے جو محبت کا سودا ہے جو عشق کا سودا ہے اور اگر محبت اور عشق کا سودا خدا سے ہے تو پھر دنیا کو دکھانے کا کوئی تصور بھی ذہن میں نہیں آنا چاہئے ، نہ آ سکتا ہے کیونکہ وہ محبت کا تحفہ جو دنیا کو دکھا کر دیا جائے جس کو پیش کیا جاتا ہے اس کے ہاں قبول کے لائق ہی نہیں رہتا، اسے رڈ کر دیتا ہے کیونکہ ایک چیز کی آپ دو مختلف سمتوں سے قیمت وصول نہیں کر سکتے۔جس کو بیچا ہے اس سے قیمت وصول کر سکتے ہیں لیکن ارد گرد کھڑے ہوئے گا ہکوں سے آپ اس کی قیمت وصول کر لیں اور بیچیں کسی اور کو یہ ناممکن ہے۔پس جب بھی آپ خدا کی راہ میں چندہ دیتے ہیں تو یا درکھیں یہ چندہ اگر خدا کی خاطر اور اس کی محبت کی وجہ سے نہیں دیا جارہا تو آپ کا مال ضائع ہو گیا۔یہ ایک ایسا سودا ہے جو پاگل کا سودا ہے اس نے روپیہ پھینکا اور اس کے بدلے میں اسے کوئی قدر بھی نصیب نہیں ہوئی۔اسی لئے قرآن کریم ایسے لوگوں کو سب سے زیادہ گھاٹا پانے والا بیان فرماتا ہے۔بڑے بیوقوف لوگ ہیں جس کے منہ کی خاطر یہ قربانی کی وہ منہ تو جیتا نہیں۔اس منہ کا فیض تو پایا نہیں اور دنیا کی نظر میں وہ مال دکھا کر ان سے کچھ بھی ان کو نہ ملا سوائے اس کے کہ یہ سمجھتا ہے کہ ہم قابلِ تعریف ہو گئے مگر یہ بھول جاتا ہے کہ دکھاوا کرنے والا کبھی بھی قابل تعریف نہیں ہوتا۔یہ عجیب بات ہے خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت میں ایک ایسا قانون بنا دیا ہے کہ دکھاوے کرنے والے کو کبھی بھی کوئی جز انہیں ملتی کیونکہ وہ لوگ جو دکھاوے کو دیکھتے ہیں دکھاوے کو سمجھتے بھی ہیں اور جہاں دل میں یہ شک گزرا کہ کوئی دکھاوا کر رہا ہے وہاں اس کی پہلی عزت ، پہلی قدر ومنزلت بھی دل سے اتر جاتی ہے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔وہ بے وقوفی میں سمجھ رہا ہے کہ میں نے اپنی بڑی شان کمائی ہے آج میں نے لوگوں کو دکھا کر ایک ہزار روپیہ خدا کی راہ میں پھینکا اور لوگ جو ہیں وہ منہ دوسری طرف کر کے یا ہنستے ہیں یا حقارت سے دیکھ رہے ہوتے ہیں یا گھروں میں جاتے ہیں تو کہتے ہیں بڑا بے وقوف آدمی ہے یہ بھی کوئی طریق ہے چندہ دینے کا۔صاف نظر آ رہا تھا کہ ریا کاری ہے،