خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 321 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 321

خطبات طاہر جلد 15 صل الله 321 خطبہ جمعہ 26 اپریل 1996ء کا ایک عجیب مرتبہ ہے خدا کی کامل نمائندگی کا حق آپ کو دیا گیا اور چونکہ تمام عبادت کے حق ، تمام عبادت کے اسلوب بنی نوع انسان نے آپ سے سیکھے اس لئے خدا کی نمائندگی میں کہتے ہیں۔لِعِبَادِی اے میرے بندو ! محمد مصطفی ﷺ کی سنت پر چل کر ان کے بندے بنو گے تو خدا کے بندے بنو گے یہ اس میں پیغام ہے اور دوسرا یہ پیغام بھی ہے کہ اگر میری غلامی اختیار کرتے ہو تو میں تو ایسا ہوں کہ خدا کی راہ میں سستا بھی خرچ کرتا ہوں علانیہ بھی کرتا ہوں، دن کو بھی کرتا ہوں رات کو بھی کرتا ہوں، مقصد اللہ ہے اس کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ہے۔تم بھی اپنی قربانیوں کو یہ رنگ دے دو پھر تم میرے عباد کہلا ؤ گے۔پس اس آیت کا مضمون آج سب دنیا پر حیرت انگیز صداقت کے ساتھ جماعت احمدیہ کی قربانی کی صورت میں پیش ہو رہا ہے اب یہ ماضی کی باتیں نہیں رہیں آج بھی محمد رسول اللہ ﷺ کے ایسے عباد ہیں جو آپ کے نقشے قدم پر چل کر وہ رنگ سیکھ گئے ہیں جو آپ کے رنگ تھے۔آج بھی کروڑہا کی قربانیاں پیش کرنے والے ایسے خاموش ہیں کہ ان کی کوئی آواز سنائی نہیں دیتی مگر سارے عالم میں اللہ اور محمد کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔یہ وہ قربانی کا رنگ ہے جو اسلام نے ہمیں سکھایا۔پس اس سے زیادہ پیارا، اس سے زیادہ عظیم، اس سے زیادہ دائمی حسن والا مذہب اور کوئی دنیا میں نہیں ہے جو ہر وقت ، ہر زمانے میں اپنے پھل دیتا ہے اور محض تاریخی قصوں کے طور پر اپنی عظمتیں بیان نہیں کرتا مستقبل کے متعلق بھی بتاتا ہے کہ ایسا ہو گا آخرین میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوں گے اور ہو جاتے ہیں۔اس مضمون کے تعلق میں میں آپ کو اب یہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ خدا کی خاطر خرچ کرنا اور خاموش رہنا یہ آتا کیسے ہے اور کیسے اس اعلیٰ قدر کی حفاظت کی جانی چاہئے۔وہ کیا کرنا چاہئے جس کے نتیجے میں ہماری یہ صفت دائمی ہو جائے اور اس میں پھر کوئی تزلزل نہ آئے۔سوال یہ ہے کہ جب بھی کوئی انسان اپنے عزیز مال کو کسی بات پر خرچ کرتا ہے تو کوئی مقصد اس کے پیش نظر ہوتا ہے۔صرف پاگل ہے جو اسے پھینکتا ہے ورنہ کوئی ادنی سودا کرتا ہے کوئی اعلیٰ سودا کرتا ہے کوئی کم قیمت لے لیتا ہے کوئی زیادہ قیمت لے لیتا ہے مگر قیمت کے بغیر انسان مال خرچ نہیں کرتا۔ہاں ایک قیمت ہے جو تحفے کا رنگ رکھتی ہے وہ قیمت ہے جس میں محبت ملتی ہے اور کوئی مادہ چیز ہاتھ نہیں بدلتی اور نہ تجارتوں میں اور نہ دوسرے سودوں میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی مادی قدر ہے جو روپے خرچ کرنے کے بدلے میں ملتی