خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 320 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 320

خطبات طاہر جلد 15 320 خطبہ جمعہ 26 اپریل 1996ء ہیں۔مجھے ملتے ہیں مجھ سے بھی ذکر نہیں کرتے کہ یہ رقم ہم نے دین کی خاطر پیش کی ہے اور ہم آپ کو بتا دیں کہ ادائیگی کر چکے ہیں۔بعد میں جب با قاعدہ عام رپورٹ ملتی ہے تو میں دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ ابھی کل پرسوں تو یہ لوگ مل کر گئے تھے کوئی اشارہ بھی ذکر نہیں کیا اور کھاتوں میں دبی ہوئی یہ رپورٹ نظر آ گئی ہے۔یہ کیوں ہو رہا ہے؟۔قرآن کریم نے اسی مضمون کو یہاں پیش فرمایا ہے۔قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلوةَ کہہ دے کہ اے میرے بندو! الَّذِينَ آمَنُوا وہ لوگ جو ایمان لائے ہو۔يُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ نماز کو قائم کرو اور اس میں سے خرچ کرو جو ہم نے ان کو عطا کیا ہے۔سِرًّا وَ عَلَانِيَةً چھپ چھپ کر اور ظاہری طور پر بھی مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمُ لا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلل اس دن سے پہلے جس دن سب سودے بند ہو چکے ہوں گے۔تجارتوں کے دفتروں کو تالے لگ جائیں گے۔جیسے چھٹی کا دن آ جاتا ہے اور بینک بند ہو جاتے ہیں وہی نقشہ اللہ تعالیٰ کھینچ رہا ہے کہ جو کچھ کرنا ہے اس دن سے پہلے پہلے کر لو جب بینکوں کے دروازے مقفل ہو جائیں گے جب خدا کی راہ میں پھر کوئی تجارت قبول نہیں کی جائے گی اور کیسے خرچ کرو؟ مخفی ہاتھ کے ساتھ بھی اور کھلم کھلا بھی ، چھپ کر بھی اور علانیہ بھی۔پسMTA کا نظام جو خاموش کہانی بتا رہا ہے ایک یہ کہانی بھی ہے کہ آج بھی خدا کے وہ بندے ہیں اور کثرت کے ساتھ ہیں اور دنیا کے ہر خطے میں ہیں جنہوں نے اتنا بڑا مالی بوجھ اٹھایا ہے مگر ایک آواز بلند نہیں کی کہ ہم ہیں جو یہ چندے دے رہے ہیں۔ایک فہرست شائع نہیں ہوئی، ایک اعلان نہیں کیا گیا اور اس کے باوجود مسلسل وعدے آتے چلے جاتے ہیں، قربانیاں پیش ہوتی چلی جاتی ہیں، عورتیں ہاتھوں سے زیور اتارتی ہیں ، گلوں کے زیور نوچ پھینکتی ہیں اور خدا کی راہ میں پیش کرتی ہیں کہ ہمیں ان میں اب کوئی دلچسپی نہیں رہی اور کوئی شور نہیں ، کوئی مطالبہ نہیں بلکہ تاکید ہے کہ خاموش رہیں۔وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ یہ بندے پیدا ہو گئے ہیں جن کی خدا نے اس قرآن کریم صلى الله میں یہ خوشخبری دی تھی اور محمد رسول اللہ ﷺ کوفرمایا تھا کہ اے محمد یہ ان سے کہہ دواے میرے بندویا عِبَادَ اللہ نہیں فرمایا عبادی فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی عظیم تفسیر فرمائی ہے فرماتے ہیں آنحضرت صلى الله