خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 319
خطبات طاہر جلد 15 319 خطبہ جمعہ 26 اپریل 1996ء رہا۔بالکل اندھے کے اندھے بنے بیٹھے ہیں۔پس آج کے دن میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی قوم اور اپنے وطن کے لئے وہ جو پاکستانی ہیں دنیا میں جہاں بھی بستے ہوں پاکستان کی بقاء کی خاطر ان کے لئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہوش کی آنکھیں کھولے کیونکہ دن بدن یہ ملک اب ہلاکت ہی کی طرف بڑھ رہا ہے اور ان کو دکھائی نہیں دے رہا۔ان کو پتا نہیں لگ رہا کہ ہماری قوم کر کیا رہی ہے۔اتنی مجرم ہو چکی ہے کہ نیکی، عدل، احسان کا تصور ہی اب اٹھ چکا ہے اور بے حیائی کے ساتھ عام باتیں ہوتی ہیں اس میں۔اخباروں میں چرچے ہوتے ہیں اور کسی کو کچھ فکر نہیں۔قاری صاحب ہیں قرآن کریم پڑھنے بچی آتی ہے اس کو اغوا کر کے دوڑے پھرتے ہیں ادھر ادھر اور واپس آکے جب لوگ پوچھتے ہیں کہ جناب قاری صاحب یہ کیا ہوا انہوں نے کہا کہ بس شیطان غالب آ گیا اتنی سی بات ہے کچھ بھی نہیں کوئی ایسا بڑا واقعہ نہیں ہوا یعنی ساری قوم پر ہی شیطان غالب آ رہا ہے تو وہاں ناموس رہے گی کیا۔مگر اس دن کو میں اپنے ملک کے حالات کھولنے کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہتا وہ تو روز اخبار میں کھلتے ہی ہیں وہ پردہ دری جو خدا کر رہا ہے اس میں کسی مزید انسانی کوشش کی ضرورت نہیں ہے، دن بدن پردہ دری ہو رہی ہے اور دن بدن پردہ پوشی بھی ہو رہی ہے۔یہ بھی ایک خدا تعالیٰ کی جاری تقدیر ہے کہ کہیں ستاری کے پر دے ڈالتا ہے کہیں سے ستاری کے پردے اٹھالیتا ہے۔اور یہ آیت جو میں نے آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی۔اس میں یہی مضمون بیان ہوا ہے۔سِرًّا وَ عَلَانِيَةً کا۔اس تعلق میں اس آیت کے ترجمے کے بعد میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس عظیم MTA کے عالمی نظام کے لئے جو مالی قربانی جماعت احمدیہ نے پیش کی ہے اور جس ولولے کے ساتھ آگے بڑھ بڑھ کر قربانی کی ہے اور جس تاکید کے ساتھ اپنے ناموں کو چھپانے کی درخواستیں کی ہیں۔اس کی بھی کوئی مثال آپ کو دنیا کے پردے پر کہیں دکھائی نہیں دے گی۔لوگ دس روپے کا نوٹ دیتے ہیں تو اونچا کر کے دکھا کے دیتے ہیں اور اگر کہیں کیمرہ ہو تو کیمرے کے سامنے اس کو کرتے ہیں کہ نظر آ جائے کہ اس نے دس روپے کا نوٹ پھینکا ہے اور لاکھ لاکھ ڈالر دینے والے بڑی منت سے درخواست کرتے ہیں کہ کسی کو خبر نہ ہو۔آپ چندہ ادا کر دیں اور ہمیں مطلع کر دیں بس یہی بہت کافی ہے۔کسی کو پتا نہ چلے کہ اس نے کیا دیا ہے۔لاکھ لاکھ پاؤنڈ دینے والے دے کر چلے جاتے