خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 318 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 318

خطبات طاہر جلد 15 318 خطبہ جمعہ 26 اپریل 1996ء ہیں مگر چوبیس (24) گھنٹے مسلسل ٹیلی ویژن جو چوبیس (24) گھنٹے اللہ کا ذکر کرے، چوبیس (24) گھنٹے دینی پروگرام پیش کرے اس کی کوئی مثال دنیا میں پیش نہیں کی جاسکتی۔وہ سیٹلائیٹ کے ڈائریکٹر جن سے گفت و شنید ہو رہی تھی ان سے ہم نے درخواست کی تھی کہ ہمیں جو آپ نے وقت دیا ہے اس سے پہلے کر دیں کیونکہ لوگوں کے شوق بڑے بڑھے ہوئے ہیں اور بھوک اتنی تیز ہو گئی ہے کہ اب ان سے برداشت نہیں ہوتا اور آئے دن خط ملتے ہیں کہ بس کرو، جلدی کرو اور جلدی کرو کب تک انتظار کراؤ گے۔انہوں نے ایک خوشخبری یہ دی کہ یہ انتظام تو مکمل ہو گیا ہے اور دوسری خوشخبری یہ دی کہ وہ جو عالمی نظام تھا جس کو یہ کہتے تو ہیں کل گرہ کا لیکن عالمی نظام سے مراد صرف اتنا ہے کہ ایک طرف کا نصف گرہ زمین پورے کا پورا اس نظام میں شامل ہو جاتا ہے۔پس اس کی بھی ساتھ انہوں نے یہ خوش خبری دی اور کہا کہ مزید خوش خبری یہ ہے کہ آپ سے جو ہم نے وعدہ کیا تھا کہ فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو یہ پروگرام شروع کریں گے ہم مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ غیر معمولی حالات میں ہمیں توفیق ملی ہے کہ ایک مہینہ پہلے شروع کر دیں گے۔اب اس پر پیغام سننے والے نے کہا میں آپ کا بے حد ممنون ہوں بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں آپ نے اتنی اچھی خبر سنائی مگر مجھے اپنے بڑے ڈائریکٹر کا پتا دیں تا کہ میں ان کو شکریے کا خط لکھوں۔انہوں نے جواب دیا شکریے کا خط ان کو کیا لکھو گے، جو ہمیں دکھائی دے رہا ہے یہ تمہارے اللہ نے تمہارے لئے کیا ہے اس لئے شکریہ ادا کرنا ہے تو اپنے خدا کا کرو۔ایک عیسائی جس کو دنیا میں بظاہر مذہب میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اس سے معمولی سا واسطہ جماعت کا ہے وہ بار بار ایسے نشان دیکھ رہا ہے کہ اس کا دل یقین سے بھر گیا ہے کہ اللہ اس جماعت کے ساتھ ہے۔پس اس کی طرف سے یہ پیغام اتنا پیارا لگا کہ میری آنکھیں جذبہ تشکر سے لبریز ہوگئیں، دل میں تو تھا ہی آنکھوں سے اٹڈ نے لگا کہ اللہ کی شان دیکھیں ایک عیسائی ڈائریکٹر امریکہ سے جہاں احمدیت کا کوئی خاص تعارف بھی نہیں ہے وہ اس موقع پر کہ ہم چاہتے ہیں اس کے بڑے ڈائر یکٹر کا شکریہ ادا کریں ہمیں بتا رہا ہے کہ ڈائریکٹر وائریکٹر کی کوئی بات نہیں ہے اپنے اللہ کا شکریہ ادا کرو جو تمہاری حمایت کر رہا ہے غیر معمولی حالات میں یہ باتیں ہورہی ہیں۔پس آج ہی کے مبارک دن یہ خوشخبری بھی ہمیں ملی کہ خدا تعالیٰ دنیا کی آنکھیں کھول رہا ہے۔ان کو دکھا رہا ہے مگر ” جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے جن کو نظر آنا چاہئے ان کو نہیں دکھائی دے