خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 317
خطبات طاہر جلد 15 317 خطبہ جمعہ 26 اپریل 1996ء افریقہ کے ممالک میں بھی دکھائی دے گا اور آسٹریلیا میں بھی دکھائی دے گا اور جاپان میں بھی دکھائی دے گا، انڈو نیشیا میں بھی بالکل صاف اور واضح دکھائی دے گا۔غرضیکہ شاید ہی کوئی ایشیا یا افریقہ کا ملک ایسارہ جائے جہاں وہ عام ڈش انٹینا پر صاف دکھائی نہ دے جہاں نہیں دے گا وہاں ذرا ڈش انٹینا کا سائز بڑا کرنے کی ضرورت ہوگی اور وہاں بھی وہ دکھائی دینے لگے گا۔مگر اب تک جتنے بھی ایسے نظام جاری ہیں خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو جو عطا کیا ہے وہ سب سے زیادہ طاقتور ہے اور کوئی نظام موجود ہی نہیں ہے جو ہم لے سکتے اور پھر آئندہ ساڑھے پانچ سال تک کا معاہدہ ہو چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اب آئے دن کی یہ سردردی کہ Transponder بدلا ہے یا سیٹلائیٹ بدلا ہے اس لئے اب اپنی ڈشوں کے رخ بدلیں اس سے چھٹکارا مل جائے گا۔یہ نظام انشاء اللہ اس صدی کے آخر تک بھی چلے گا اور انگلی صدی کا پہلا حصہ بھی دیکھے گا۔چنانچہ اگلی صدی میں دو سال تک بلکہ اڑھائی سال تک یہ نظام جاری رہے گا۔تو اس لئے میں آپ کو یہ خوشخبری دیتا ہوں اور سمجھا رہا ہوں کہ خدا کی تقدیر بعض دنوں کو بیک وقت منحوس بھی بناتی ہے اور بابرکت بھی بناتی ہے اور ایک ہی دن کا منحوس ہونا، ایک ہی دن کا مبارک ہونا ، بعضوں کے لئے منحوس ہونا، بعضوں کے لئے مبارک ہونا یہ صداقت کا ایک ایسا عظیم الشان نشان ہے جس پر انسان کا بس نہیں ہے، اسے کوئی اختیار حاصل نہیں۔تقدیر ہی ایسے دن تراشا کرتی ہے۔آسمان ہی سے وہ طاقتیں اترتی ہیں جو بعض گھروں اور بعض ملکوں پر نحوستیں بن کر اترتی ہیں اور بعض گھروں اور بعض ملکوں پر خدا تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں بن کر اترتی ہیں۔اب دیکھنے والے کی آنکھ ہے جیسا بھی دیکھے یہ نشان تو کھلے کھلے ہیں روز روشن کی طرح بات ظاہر ہوگئی ہے۔مگر جس نے نہ دیکھنا ہو اس کی آنکھیں اندھی رہتی ہیں۔دعا ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو نور بصیرت عطا فرمائے ، دعا ہی ہے کہ اللہ ان کے دلوں کے تالے کھولے کیونکہ اس کے بغیر دیکھیں گے بھی تو اس کا فائدہ کوئی نہیں۔سنیں گے بھی تو پیغام کی حقیقت کو سمجھ نہیں سکیں گے۔پس ایک تو یہ خوش خبری تھی جو میں نے آپ کو سنانی تھی۔الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی کہ اب ہم پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور دیگر مشرقی ممالک میں چوبیس (24) گھنٹے کا پہلا ٹیلی ویژن سٹیشن پیش کر رہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی وہاں نہیں ہوا۔بڑی بڑی حکومتیں ہیں، بڑے بڑے نظام جاری