خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 314 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 314

خطبات طاہر جلد 15 314 خطبہ جمعہ 26 اپریل 1996ء کرنے سے روک دیا جائے اور زبان کی حد تک یہ پابندیاں نہیں لگائی گئیں بلکہ یہاں تک بھی اس آرڈنینس میں ان پابندیوں کو سخت کرنے اور احمدیوں کو جکڑنے کا خیال رکھا گیا کہ کوئی احمدی اپنی طرز سے بھی ،اگر بولے نہ بھی محض اپنی طرز زندگی ہی سے مسلمان دکھائی دے تو یہ بھی اس کا جرم ہوگا تاکہ احمدیت کا اسلام سے تعلق کلیہ ہر پہلو سے کاٹ دیا جائے صوتی لحاظ سے بھی اور تصویری لحاظ سے بھی۔یہ اس آرڈینینس کا آخری مقصد تھا اور اس کے بعد جو حالات رونما ہوئے ہیں اس میں ہرگز کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ سب سے منحوس دن ثابت ہوا ہے۔اس دن کے بعد پھر پاکستان کی ساری برکتیں ایک ایک کر کے اٹھائی گئیں۔ہر اچھی بات پاکستان سے رخصت ہوئی جیسے پرندہ گھونسلے کو چھوڑ دیتا ہے ویسے ہی ہر نیکی، ہر خوبی، ہر اعلیٰ قدر پاکستان کو چھوڑنے لگی اور اب وہ فسادات کا ایک ایسا اکھاڑہ بن گیا ہے کہ نہ دوست کو دوست پر اعتبار رہا ہے نہ دشمن سے کسی خیر کسی انسانی قدر کی کوئی دور کی توقع بھی کی جاسکتی ہے۔کوئی قانون حائل نہیں رہا، کوئی انسانی قدر کا ضابطہ حیات ایسا نہیں جو پاکستان کے عوام کو دوسرے عوام کے حقوق سلب کرنے سے باز رکھ سکے۔ہر ایک کی کوشش ہے اور کھلی کوشش ہے ایک انگریزی محاورہ ہےFree for allاب آئے دن اخباروں میں یہ خبریں شائع ہوتی ہیں کہ حکومت کی غنڈہ گردی ہے یا عوام کی غنڈہ گردی ہے یا کسی سیاسی پارٹی کی غنڈہ گردی ہے یا بعض مفاد پرستوں کی غنڈہ گردی ہے کسی نہ کسی ایک کی غنڈہ گردی کے الزام تو آپ کو ملتے ہیں اور حقیقت میں اس کے دفاع میں کبھی بھی کوئی قطعی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔سب کی ہے، سارے ملوث ہیں Free for all ہے اور مظالم کی داستان ایسی بھیانک ہے کہ اس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔چھوٹے بچوں پر مظالم ، ناموس کی حفاظت کرنے والے اداروں کا غریبوں اور بے کسوں کی ناموس سے کھل کھیلنا اور ایسے ظالمانہ طریق پر ان کی عصمتوں کو پامال کرنا کہ دنیا کے کسی ملک میں جہاں جنگ جاری نہ ہو عام امن کے حالات ہوں ایسے واقعات آپ کو دکھائی نہیں دیں گے۔ساری دنیا کے جغرافیہ پر نظر ڈال کر دیکھ لیں اس طرح آئے دن ان اداروں کی طرف سے جو اس بات پر مامور ہیں کہ وہ انسانوں کی عزت، مال، جان، مکان کی حفاظت کریں گے ان کی طرف سے عزت، جان ، مال اور مکان پر ایسے حملے ہور ہے ہوں بلکہ ان سے بڑھ کر معصوم عورتوں کی ناموس پر ایسے حملے ہورہے ہوں کہ کھلم کھلا بازاروں اور گلیوں میں شیطانی