خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 303 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 303

خطبات طاہر جلد 15 303 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء ہے ایسے پاگل ہو گئے ہو تم ایک دوسرے سے آگے بڑھنے میں کہ قبروں کی زیارت کرنے لگے ہو۔اور دوسرا معنی جو آخری اور بہت ہی پر جلال معنی ہے کہ تم تو قبروں کے کنارے تک جا پہنچے ہو۔حَتَّى زُرتُمُ الْمَقَابِرَ کیا تمہیں اپنا انجام دکھائی نہیں دے رہا تمہارے سامنے مقبرے پھیلے پڑے ہیں تم سے پہلے ایسے ہی لوگ تھے جیسے تم ہو جن کو اس ظلم نے مقبروں تک پہنچا دیا وہ دفن ہیں زیرزمین دفن ہیں ان کو دیکھو اور ہوش کرو کہ تم نے اپنا کیا انجام بنا رکھا ہے۔پس وہ جو حُطاما ہو کر وہ کھیتی جس سے توقع تھی کہ بہت بار آور ثابت ہوگی، گھر ہمارے غلوں سے بھر دے گی۔اگر بار آور ہونے سے پہلے اس پر کوئی ہوا چل پڑے اور وہ زرد ہو جائے اور زرد ہو کر پارہ پارہ ہو جائے اور زمیندار کو اس میں کوئی دلچسپی نہ رہے۔ہوائیں، آندھیاں چلیں رگیدتی ہوئی اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، مٹی میں ملا دیں اور پھر اس پر پاؤں پڑنے لگیں۔یہ جو نقشہ ہے یہ وہ آخری نقشہ ہے جو تکاثر کا نقشہ ہے، مقابر تک پہنچے کا یہ نقشہ ہے جو کھینچا گیا ہے تو فرمایا اس کی خاطر تم اپنی زندگیاں برباد کرتے ہو۔اب آپ دیکھ لیں کہ سیاست نے مال کے ساتھ مل کر دنیا میں کیا تباہی مچائی ہے اور انسان نے خود بھی ذاتی طور پر اموال کی طلب میں اور جو سیاسی طاقت ہے اس کی خواہش میں دنیا میں کتنے مصائب بر پا کر رکھے ہیں۔ہمارے ملک پاکستان میں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ تیسری دنیا میں ہر جگہ قریباً یہی کچھ ہو رہا ہے انسانی زندگی کی قیمت ہی کوئی نہیں رہی انسانی عزت کی کوئی تو قیر باقی نہیں رہی اور ہر دفعہ جب آپ سوال کریں کیوں؟ تو یا پیسے کی خاطر یا سیاست کی خاطر۔یہ دو چیزیں ایسی غالب آ جاتی ہیں پھر اور انسانی دماغ پر ایسا قبضہ کر لیتی ہیں کہ دیکھنے کی ہوش ہی باقی نہیں رہتی۔یہ آخری طبعی لازمی نتیجہ ہے جس سے انسان بچ نہیں سکتا اور ہوتا ہے روزانہ گھروں میں۔آپ کی اولاد میں اس کے آثار نمایاں ہو کر آپ کی آنکھوں کے سامنے آتے ہیں۔آپ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔آپ کی بیویوں میں، آپ کی بچیوں میں، آپ کے لڑکوں میں یہ آثار ظاہر ہوتے ہیں۔آپ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور اگر متوجہ ہوں تو وہ وقت ہے کہ آپ ان کی بیخ کنی کریں ورنہ بعد میں پھر پچھتاتے رہ جائیں گے اور کچھ بھی آپ کے ہاتھ نہیں آئے گا۔۔عورتیں ہیں مثال کے طور پر، ان کو ہم پردے کے متعلق تاکید کرتے رہتے ہیں لیکن سو عذر ہیں جن میں جائز بھی بہت ہیں۔کہتے ہیں ہم نے کمانا ہے، ہم نے باہر نکلنا ہے تعلیم حاصل کرنی ہے