خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 288 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 288

خطبات طاہر جلد 15 288 خطبہ جمعہ مورخہ 12 اپریل 1996ء کر رہے کسی اور کی عبادت کرو گے۔اللہ تعالیٰ تو تمہیں یہ فرماتا ہے کہ آتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ جو اقرباء ہیں ان کا حق ادا کرو۔کتنے ہی ہیں جو امیر ہو گئے اور اقرباء کا حق بھول گئے اور اپنی دولتیں اکٹھی کرنے ، اپنے دکھاوے میں مگن رہے، یہ نہیں دیکھا کہ فلاں قریبی ، فلاں عزیز کس حال میں زندگی بسر کر رہا ہے۔وَ الْمِسکین اور جو قریب نہیں بھی ہے ویسے مسکین ہے بے چارہ گرا پڑا اس کی ضرورتوں کا خیال کر کے جو خدا نے تمہیں زائد عطا فرمایا ہے اس میں اس کو شریک کرنے کی کوشش کرو۔یہ تب ہو سکتا ہے اگر خدا معبود ہو۔وَابْنَ السَّبِیلِ اور راستہ چلتے کا بھی خیال رکھو۔اب دیکھیں خدا تعالیٰ نے انسانی برادری کو کتنی وسعت عطا فرما دی اور نفسانیت کے ہر پہلو کا ازالہ فرما دیا۔اقرباء کے ساتھ تعلق بعض جگہ بہت ملتا ہے یعنی ہر جگہ ایک ہی بیماری نہیں ہے۔بعض جگہ تو اقرباء سے تعلق تعصبات کی شکل میں ڈھل جاتا ہے، اتنا زیادہ تعصب کہ غیر کے حقوق کا خیال ہی نہیں رہتا اور ٹولے بنائے جاتے ہیں جتھے بنائے جاتے ہیں کہ جی ہم اقرباء کے حقوق کا خیال رکھ رہے ہیں۔قرآن کریم نے اس مضمون کو اتنا متوازن کر دیا ہے کہ ایک تعلق دوسرے کی راہ میں حائل ہو ہی نہیں سکتا۔فرمایا اقرباء کا حق ادا کرنا ہے مگر مسکین کے حق کو پیش نظر رکھنا ہے۔یہ نہیں کہ مسکین کا حق لے کے اقرباء کو دیدو اور وہ بے یار و مددگار لوگ ترستے رہ جائیں اور جو کچھ بھی ہے تمہارے اپنے ٹولے کے اندرہی پھرتا رہے اور فرمایا مسکین بھی صرف وہ نہیں جو تمہاری آنکھوں کے سامنے مسکین ہے اور اس سے تمہارے دل میں ایک جذبہ پیدا ہوا ہے۔وَابْنَ السَّبِيلِ مسافر کا کیا ہے آیا اور چلا گیا اور اس کے ساتھ کون سے رابطے ہونے ہیں۔مسکین تو اگر مقامی ہے وہ ہمیشہ آپ کے احسان کو یادر کھے گا۔بسا اوقات جتنا احسان ہے اس سے بھی زیادہ مسکین شکریے کے جذبے سے مجبور ہو کر آپ کی خدمتیں کرتا ہے۔اب ہمارے معاشرے میں یہ جو بے چارے نسبتاً غریب لوگ کمی کاری کہلاتے ہیں ان پر کون سا احسان زمیندار کرتے ہیں۔یہی احسان کرتے ہیں نا کہ شادی کے موقع پر ہمارے آ کے برتن مانجھو، ہماری چار پائیاں درست کرو، ہمارے شامیانے لگاؤ اور خدمتیں کرو اور مٹھیاں چا پیاں کرو یہ احسان ہے اور بعد میں کچھ دے دیا اور دیا تو خیرات کے طور پر کہ دیکھو ہم کتنے سخی لوگ ہیں ہم تمہیں دے رہے ہیں۔کام لینا بھی احسان اور محنت کا بدلہ دینا بھی احسان۔ایسے ذلیل معاشرے میں خدا کہاں سے داخل ہو جائے گا۔یہ جو معاشرہ ہے یہ مسکین سے اپنے نفس کی عبادت کرواتا ہے۔