خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 287
خطبات طاہر جلد 15 287 خطبہ جمعہ مورخہ 12 / اپریل 1996ء اور اس وقت پھر خدا ہی کو پکارتا ہے تو دل کی گہرائیوں سے جانتا ہے کہ معبود اور ہے اور اس کے باوجود دیدہ دانستہ جھوٹے معبودوں کی پیروی کرتا ہے یہ ہے۔عَلیٰ عِلْمٍ حقیقت میں علم ہے یہ خدا نہیں ہے۔حقیقت میں ہر نفس کا ضمیر اسے تنبیہ کرتا ہے اسے جگاتا ہے، اسے جھنجھوڑتا ہے کہ دیکھو یہ غلط رستہ ہے۔تو ہر جگہ غلط خدا کو معبود بنا لینا یہ تو زندگی کو عذاب بنادینے والی بات ہے اور اسی سے بنی نوع انسان کی زندگی آج کی دنیا میں جہنم بن گئی ہے اور بنتی چلی جارہی ہے۔اب اس سے اگلا جو معاملہ ہے اس میں ہے زِيْنَةٌ وَتَفَاخُرُ۔اب زینت اور تفاخر کے لحاظ سے آپ دیکھیں کہ کس طرح ہماری روز مرہ کی زندگی میں زینت اور تفاخر نے کتنی بڑی تباہی پھیلا رکھی ہے۔ہماری شادی بیاہ کے موقع پر، ہمارے تعلقات میں ، ہم جب ایک دوسرے کو دعوتوں پر بلاتے ہیں، کسی کی ضروریات پوری کرنے کے بہانے اپنی انا کو دنیا پر ظاہر کرتے ، اپنی انا کے دکھاوے کی خاطر بظاہر نیکی کے کام کرتے ہیں یہ زینت اور تفاخر ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔اگر زینت اور تفاخر کو آپ نکال لیں تو اکثر شادی بیاہ نا کامی سے بچ سکتے ہیں اور وہی اندھا پن جو آدم کے وقت سے شروع ہوا ہوا ہے آج بھی جاری ہے یعنی دیکھ رہے ہیں، ہن رہے ہیں لیکن اندھے ہیں اور بہرے بھی ہیں اور سوچنے کی طاقتوں سے محروم ہیں۔یہ کیوں ہے؟ یہ وہی کہانی ہے جو شروع سے آخر تک چلتی ہے کیونکہ شیطان نے قیامت تک مہلت مانگی تھی اور قیامت تک یہی کہانی ہے جو آپ کے سامنے بار بارظاہر ہوگی۔پہچا نہیں تو سہی اس کو کہ ہو کیا رہا ہے۔اب لوگ قرض اٹھا لیتے ہیں شادیوں کی خاطر یا اپنے دکھاوے کے لئے کوئی دعوتیں کر رہے ہیں بڑی بڑی مہمان نوازی میں غلو کر رہے ہیں۔جو بھی خرچ ہیں ان میں اگر نفس خدا ہے تو خرچ ایک تو بے محل ہو گا اور دوسرے ضرورت سے زیادہ ہوگا اور یہ جو ضرورت سے زیادہ کا شیطان ہے اسے خدا تعالیٰ نے شیطان ہی قرار دیا ہے اور اس کے نتیجے میں بہت بڑی تباہی ہوتی ہے، معاشرے کا سکون برباد ہوتا ہے اور انسانی رہن سہن پر ایک بہت بڑی تباہی وارد ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو یوں بیان فرمایا ہے۔وَاتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَ الْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ( بنی اسرائیل : 27) کہ دیکھو جب خدا نے تمہیں خرچ کا حکم دیا ہے تو خدا کی خاطر خرچ کرنا ہے۔اگر تم خرچ تو کرو مگر اپنی خاطر کرو تو پھر تم خدا کی عبادت نہیں