خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 285
خطبات طاہر جلد 15 285 خطبہ جمعہ مورخہ 12 اپریل 1996ء میں خود چھلانگ مارنے کے لئے لیکے اور پیروی کرے اور آواز میں دے کہ آؤ ہمیں ختم کرو ہم ابھی باقی ہیں اور حیرت انگیز رعب ہے جو ان کے دلوں پر چھا گیا، وہ واپس نہیں لوٹ سکے، حملہ نہیں کر سکے۔جانتے تھے کہ یہی وہ ہیں جن کو کل ہم نے مار مار کر ان کی ساری طاقت کے پرخچے اڑا دیئے تھے۔اب وہی زخمی ، مارے ہوئے ، کوٹے ہوئے جن میں کوئی نیا آدمی شامل نہیں، کچھ بھی کمک نہیں ہے، تعداد میں کم ہوئے ہوئے پہلے سے اور طاقت میں کم یعنی زخموں سے چور وہ پیچھا کر رہے ہیں اور بیٹھتے ہیں وہ ایک جگہ غور کرتے ہیں فیصلے ہوتے ہیں کہ کیوں نہ اب ان پر حملہ کر کے ان کو ختم کر دیا جائے لیکن تو فیق نہیں ملتی۔ی خدا بتانا چاہتا ہے کہ میرے ہی امر کا کام ہے کہ وہ تمہیں طاقت بخشے۔میرا ہی امر ہے جو تمہاری پشت پناہی کرتا ہے۔میرا ہی امر ہے جو تمہیں دشمن کے غلبے سے بچاتا ہے اور تمہاری اقلیت کو بڑی بڑی طاقتوں پر غالب کر دیتا ہے۔یہ ایک ایسا معمہ ہے جو آج تک مستشرقین حل نہیں کر سکے۔سر ٹکراتے ہیں، ان کی وہ عبارتیں وہاں پڑھیں، شروع میں تو بڑے فخر کی عبارتیں ہیں کہ اس طرح پھر کافروں نے مار مار کے اڑا دیا مسلمانوں کو یہ حال ہوا رسول اللہ ﷺ کا یہ حال ہوا، فلاں کا یہ حال ہوا، درہ میں پناہ لینی پڑی اور جب آگے چلتے ہیں تو پاؤں اکھڑ جاتے ہیں۔عقل پر لگتا ہے لزرہ طاری ہو گیا ہے۔کئی ایک نے سوال اٹھایا کہ کیا ہو گیا تھا ان کو ، بڑے بڑے دانشور بنے پھرتے تھے کیوں نہیں پلٹے اور ایک دفعہ صفایا کر دیا ہمیشہ کے لئے ہم اسلام سے نجات پا جاتے۔وہ تھے کون؟ کیونکہ خدا کا امر تھا جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی پشت پناہی کر رہا تھا اس لئے آپ کی یعنی زندہ روحانی جماعتوں کی طاقت کا راز امرالہی میں مضمر ہے یہاں سے آپ ملے تو آپ کا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا اور پھر سارے اندھیرے آپ کو گھیر لیں گے کیونکہ جب امرالہی سے واسطہ ٹوٹتا ہے تو ہزار قسم کے دوسرے امرسراٹھاتے ہیں اور ایک کی غلامی سے نکل کر آپ کو اربوں کی غلامی اختیار کرنی پڑتی ہے لا تنا ہی خدا اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔نفس کا اللہ بناتے ہی ایک اللہ نہیں رہتا بلکہ ہر چیز معبود بن جاتی ہے۔اس کو سیاست میں دیکھیں۔اس کو تجارت اور اقتصادیات میں دیکھیں۔اس کو معاشرتی امور میں دیکھیں۔ہر پہلو سے ہمیشہ آپ کو تمام اندھیروں کی جڑ اس امر الہی سے انحراف میں نظر آئے گی۔اس وقت جب اپنی خواہش کو معبود بنا لیں گے۔یہ جتنی بے راہروی ہورہی ہے، عورتوں پر ظلم ہورہے ہیں، بچوں الله