خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 284
خطبات طاہر جلد 15 284 خطبہ جمعہ مورخہ 12 اپریل 1996ء تھوڑے ہی عرصے میں دیکھتے دیکھتے اس کا کوئی وجود باقی نہیں رہا۔عبرت کے لئے وہ تاریخ کی کتابوں میں تو ملتا ہے مگر حقیقت کے طور پر اس کی بنائی ہوئی جماعت کی کوئی حیثیت، کوئی وجود کہیں دکھائی نہیں دیتا۔پس بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ فرضی طور پر کسی کو ایک کہانی میں مبتلا کر دیا جائے خواہ وہ سچی نہ بھی ہو۔بعض دفعہ کہانی کی دھن ہے جو انسان کے جسم و دماغ اس کے قومی پر قبضہ کر لیتی ہے فرضی باتوں کے نتیجے میں بھی انسان بڑی بڑی قربانیوں کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔مگر فرضی باتوں میں ہر ادلتے بدلتے حالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔وہ اونچ نیچ جو زمانے کے ہیں ان کے ساتھ ساتھ ان کی فرضی باتیں ہمیشہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہیں اور ان کا کبھی کچھ نہیں رہتا۔پس فرضی باتوں نے فرضی جنون تو پیدا کئے ہیں مگر وقتی ، عارضی طور پر کچھ عرصے کے لئے تماشہ دکھایا اور چلے گئے لیکن ایک دائمی تبدیلی پیدا کر دیں اور دائمی غلبہ پیدا کر دیں یہ ناممکن ہے، کبھی بھی ایسا نہیں ہوا اور پھر اللہ تعالیٰ نے ہر اس احتمال کو دور کر کے دکھا دیا کہ آنحضرت ﷺ کو غلبہ کسی انسانی تدبیر کے نتیجے میں ہوا۔جنگ احد کا واقعہ اب جیسا کہ میں نے بتایا ہے، تھوڑے تھے اور بہت بڑی اور غالب جماعت جس میں بڑے بڑے چوٹی کے سپہ سالار تھے ان کے آنافا نا چھکے چھڑا دیئے۔جب پہاڑی پر نگران، جو رسول کریم ﷺ کے حکم سے ایک وفد یا کہنا چاہئیے ایک جماعت کام کر رہی تھی غالبا تمیں چالیس یا اس کے لگ بھگ ہوں گے، جتنی بھی وہ جماعت تھی انہوں نے اس درہ کی حفاظت کا کام نہایت بہادری سے سرانجام دیا اور بڑے زبر دست تیرانداز تھے اور دشمن جانتا تھا کہ ان کے ہوتے ہوئے اس درہ سے ہم گزر کر مسلمانوں کے عقب سے حملہ نہیں کر سکتے اور جب وہ فتح نصیب ہوگئی اور وہ امر سے نکل گئے اور نیچے اتر آئے تو پھر دشمن نے دیکھا کہ وہ خلاء پیدا ہوا ہے اور وہ اس طرف سے حملہ آور ہوئے اور ایک دفعہ اس فتح کو شکست میں تبدیل کر دیا گیا۔صاف ثابت ہوا کہ امر کے نتیجے ہی میں دراصل غلبہ تھا لیکن جب خدا نے فیصلہ کیا کہ پھر اس شکست کو فتح میں بدلا جائے تو ایک حیرت انگیز چیز ہے۔انتہائی زخم خوردہ، انتہائی تھکاوٹ سے چور، بے سروسامان ایسے جن کے کثرت سے شہداء تھے جن کو سنبھالنا مشکل ہوا ہوا تھا کثرت سے زخمی تھے ان کو خدا نے فرمایا کہ تم عزم کرو اور ان کا پیچھا کرو اور آنحضرت ﷺ انہی زخمیوں کو لے کر اس غالب جماعت کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔دنیا کی تاریخ میں کبھی یہ واقعہ نہیں ہوا کہ قسمت سے جان بچی ہوا تفاق سے پھر انسان اس خطرے کے منہ