خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 266
خطبات طاہر جلد 15 266 خطبہ جمعہ 5 اپریل 1996ء انسان کے بس کی بات ہی نہیں ہے کیونکہ عَلیٰ عِلْمٍ یہ لوگ دیکھنے کے باوجود اندھیروں میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو کیا دکھاؤ گے اور کیا سمجھاؤ گے؟ ان کی مزید تعریف یہ فرمائی کہ وہ کہتے ہیں کہ یہی دنیا کی زندگی ہے اسی میں ہم نے رہنا ہے، یہیں ہم نے مرنا ہے۔پس آج کل خصوصیت سے جہاں مادیت کا دور ہے جماعت احمدیہ کو اپنی تبلیغ کی راہ میں بھی سب سے بڑی مشکل یہی در پیش ہوتی ہے۔غریب ملک ہو یا امیر ملک ہو جہاں مادہ پرستی اور سیاسی غلبہ اور زیادہ اموال اور ایک دوسرے پر تفاخر کرنا اور لہو ولعب میں مبتلا ہونا یہ تینوں قسم کے اندھیرے قوم کے افق کو ڈھانپ لیں اور کوئی کسی طرف سے بھی روشنی کی امید دکھائی نہ دے ایسی قوم کو راہ حق کی طرف بلانا سب سے بڑا مشکل کام ہے کیونکہ ان کے دل کی آواز یہ ہوتی ہے کہ یہی تو زندگی ہے جس میں ہم نے رہنا ہے، سب کچھ یہی ہے، یہیں رہنا ہے یہیں مرنا ہے تو ہم کیوں ایک فرضی موت کے بعد کی زندگی کی خاطر اس دنیا کی لذتوں کو چھوڑیں۔ایک فرضی موت کے بعد کی دنیا کے تصور میں اپنا یہاں محاسبہ شروع کریں اور بدیوں سے احتراز اور نیکیوں کی طرف رغبت کریں جو قربانی چاہتی ہیں۔عمر ضائع کرنے والی بات ہے۔اس لئے یہیں کھیلو،کودو، کھاؤ، پیو، مرجاؤ یہی کچھ تو ہے ہمارے مقدر میں۔ایسے لوگوں کو آپ نیکی کی طرف بلانہیں سکتے کیونکہ اس کے آخر پر خدا نے یہی نتیجہ نکالا فَمَنْ يَهْدِيْهِ مِنْ بَعْدِ اللهِ اَفَلَا تَذَكَّرُونَ جو اس قسم کی گمراہیوں میں مبتلا ہو جائیں ان کو اللہ کے بعد ہدایت دے کون سکتا ہے؟ اور دوسری اس دعا میں جو ہمیں آنحضرت ﷺ کی طرف سے سکھائی گئی اور جمعہ کے وقت بھی ہم وہ دعا پڑھتے ہیں وہ دعا ہے۔ونعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سيات اعمالنا اے خدا ہم تیری پناہ میں آتے ہیں۔من شرور انفسنا اپنے نفس کے شرور سے ومن سیات اعمالنا اور خود اپنے ہی اعمال کی بدیوں سے۔اب یہاں باہر کے خطرات کا کوئی ذکر نہیں حالانکہ باہر سے بھی خطرات انسان کو درپیش ہوتے ہیں۔وہ پہلی آیت جس کی میں نے تلاوت کی تھی اس کے بعد والی آیت سے تعلق رکھتے ہیں اس کی طرف میں ابھی نہیں آ رہا۔جہاں نفس کے اندھیروں کا تعلق ہے اس کے تعلق میں ہمیں یہ دعا سکھائی گئی ونعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سيات اعمالنا اگرایا نہ ہو تو کیا ہے ومن يهده الله فلا مضل له ومن يضلله فلا ھادی لہ جسے اللہ ہدایت دے