خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 265
خطبات طاہر جلد 15 265 خطبہ جمعہ 5 اپریل 1996ء چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بارہا یہ مضمون بیان فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو ان کے اموال اور اولاد کی کثرت نے اندھا کر دیا اور اس کے نتیجے میں وہ قہری بادشاہ بن کے ابھرے اور انصاف کا خون کرنے والے ہوئے کہ ان کی غرض سوائے حکومت کے اور کچھ نہیں تھی۔تو اولاد سے مراد یہاں قوم کی کثرت ہے، اپنی اولا د صرف نہیں ، وہ تو ہے ہی لیکن اس مضمون میں اولاد کا تعلق جمیعت سے ہے اور اولاد کا تعلق ایسے مالی ذرائع سے ہے جن کے نتیجے میں انسان ہمیشگی کی برتری حاصل کر لیتا ہے۔وہ قو میں جو زیادہ مال دار ہوں وہ سمجھتی ہیں اب ہمیں دنیا میں کوئی مٹا نہیں سکے گا۔جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ ثُمَزَةِ الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ يَحْسَبُ أَنَّ مَالَةَ اخْلَدَهُ الهمزه:2 (4) هُمَزَةٍ تُمَزَةٍ جولوگ ہیں یہ تفسیر پر دوبارہ جانے کی ضرورت نہیں ایسی قوم کا بیان ہے یا ہر ایسے شخص کا بیان ہے جو مال جمع کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ مَالَة اخْلَدَه کہ اس کا مال اس کو ہمیشہ کی زندگی عطا کر دے گا۔اب لوگ جانتے ہیں کہ مال سے ذاتی طور پر تو ہمیشہ کی زندگی نہ ملتی ہے ، نہ کوئی سوچ سکتا ہے لیکن مال کے ذریعے قومی غلبہ ضرور ہوا کرتا ہے اور دولت مند قو میں سمجھتی ہیں کہ اب ہمیں دنیا میں کوئی مٹا نہیں سکتا کوئی انقلاب ایسا نہیں آسکتا کہ ہم سے طاقت چھین کر نسبتا غریب قوموں کے سپر د کر دی جائے۔تو یہ بھی ایک طبعی حالت کے حد سے زیادہ تجاوز کر جانے کی وجہ سے بیماری بنتی ہے اور خلاصہ اس کا قرآن کریم نے یہ نکالا ہے جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا بنالیا، جس کسی نے بھی اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا اس کے تینوں علم کے رستے بند ہو جاتے ہیں اور اس سے بڑا اندھیرا اور کیا ہے کہ ایک اندھیرے کے بعد دوسرا، نہ کان سے سن سکے، نہ آنکھ سے دیکھ سکے، نہ دماغ اور دل سے غور کر سکے۔تو وہ جو ظلمات ثلاث ہیں، کچھ باہر کی ہیں کچھ جسم کے اندر سے پیدا ہوتی ہیں اور ان پر آپ غور کر کے اپنی زندگی کو خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں تو ہر ایسا موقع جس سے اندھیرا پیدا ہوتا ہے، ہر اس موقع سے روشنی بھی پیدا ہوتی ہے اور وہاں صحیح طریق اختیار کرنے کا نام ہی اندھیرے سے روشنی میں آنے کا نام ہے۔پس یہ نفس کے اندھیرے ہیں اور ان اندھیروں سے متعلق خدا تعالیٰ نے دوسری جگہ بھی ہمیں یہی سمجھایا کہ جو ان اندھیروں میں مبتلا ہو جائے اللہ کے سوا پھر اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔