خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 261
خطبات طاہر جلد 15 261 خطبہ جمعہ 5 اپریل 1996ء پائی جاتی ہے۔ایک ایسا بچہ تھا جسے بچپن سے ایسا شوق تھا صاف ستھرا رہنے کا کہ اگر اس کے جسم پر ایک معمولی سا چھینٹا بھی کسی چیز کا پڑ جائے۔مثلاً کھانا کھاتے ہوئے سالن کا، تو بھاگ کر وہ اپنے کمرے میں چھپ جاتا تھا۔جب تک ماں اس کے کپڑے نہ بدلائے وہ روتا رہتا تھا۔ایک دفعہ میں گیا تو وہ لپک کر پیچھے چھپ گیا۔میں حیران تھا کہ ہوا کیا اس کو۔تو اس کی اماں نے بتایا کہ اس کے کپڑوں پر ایک چھوٹا سا داغ پڑا ہوا ہے اور اچانک آپ آگئے ہیں تو اس نے یہ سمجھ کر کہ اگر میں نے دیکھ لیا تو اس کا کیا بداثر مجھ پر پڑے گا۔تو شرم کے مارے وہ چھپ گیا ہے۔اب اس میں بناوٹ کوئی نہیں تھی ، تفاخر کوئی نہیں تھا لیکن زینت کی ایک لگن تھی جو طبعی طور پر دل میں موجود تھی۔تو مختلف انسان مختلف حالتوں میں پیدا ہوتے ہیں۔بعضوں کو زینت کا شوق ہے۔بعضوں کو پرواہ ہی کوئی نہیں اکھڑے پکھڑے حال میں رہتے ہیں، نہ لباس کی ہوش اور ویسے بڑے صاحب علم ، صاحب وقار، صاحب مرتبہ، بڑے بڑے سائنس دان ہیں، بڑے بڑے فلسفی ہیں۔جن کو اپنے لباس کی کوئی ہوش نہیں تو الگ الگ فطرت کے تقاضے ہیں اور قرآن کریم نے ان سب تقاضوں کو جوڑے جوڑے کر کے ہمارے سامنے رکھ دیا۔مگر زینت سے اگلا قدم ہے تفاخر کا۔اپنے نفس میں کوئی انسان اپنے آپ کو اچھا بنا کے رکھے یہ منع نہیں ہے بلکہ زینت کی تو خدا تعالی تعریف فرماتا ہے اور ایسے لوگوں کا دفاع کرتے ہوئے فرماتا ہے قل مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللهِ الَّتِى اَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَتِ مِنَ الرِّزْقِ (الاعراف:33) - آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تو کہہ دے کہ کون ہے جو اس زینت کو حرام قرار دیتا ہے۔الَّتِى أَخْرَجَ لِعِبَادِہ وہ زینت جسے خدا نے اپنے بندوں کی خاطر بنایا ہے، اپنے خاص بندوں کے لئے جو اسی کے ہوتے ہیں۔وَالطَّيِّبَتِ مِنَ الرِّزْقِ اور کھانے پینے کی چیزوں میں سے جو اچھی چیزیں ہیں کون ہے جس نے ان کو حرام قرار دیا ہے۔مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو نیک بننے کی خاطر یا اپنے آپ کو نیک دکھانے کی خاطر بُرے لباس پہنتے ہیں ، بے ہنگم لباس پہنتے ہیں تا کہ لوگ سمجھیں کہ یہ تو بڑا ہی پہنچا ہوا اور درویش ہے، اس کو تو ہوش ہی کوئی نہیں کہ کپڑے کیسے ہوتے ہیں اور اچھا کھانا دیکھا تو منہ پھیر لیا کہ جی ہمیں نہیں ان کھانوں سے کوئی دلچسپی ، گھر میں جاکے کھالیں گے، لوگوں کے سامنے اچھا کھانا نہیں کھانا، یہ بھی تفاخر کی قسمیں ہیں۔پس زینت کو غیر معمولی طور پر اختیار کرنا بھی ایک اندھیرا ہے اور زینت سے جہاں جائز ہو