خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 260 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 260

خطبات طاہر جلد 15 260 خطبہ جمعہ 5 اپریل 1996ء۔کر دکھا رہی ہے۔اس آیت کی تشریح میں ایک اور آیت میں نے آپ کے سامنے رکھی تھی جس میں بتایا تھا کہ وہ اندھیرے جو نفس سے پیدا ہوتے ہیں، جو اس آیت میں مذکور ہیں۔وَالَّذِيْنَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابِ ان اندھیروں کی تین حصوں میں تقسیم کر کے خدا تعالیٰ نے ایک اور آیت میں اس مضمون کو ہم پر خوب کھول دیا ہے۔وہ ایک اندھیرا ہے لعب اور لہو کا۔انسان کا دل پہلا وا خواہ وہ معصوم کھیلوں کی وجہ سے ہو یا نفس کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے جنسی تعلقات وغیرہ قسم کی چیز میں اور جو ابازی، یہ تمام لہو کے اندر چیزیں آتی ہیں جس سے انسان اپنے نفس کی پیاس کسی ذریعے سے بجھانے کی کوشش کرتا ہے، ایک بھڑ کی سی لگی ہوتی ہے کہتا ہے میں کسی طرح اسے پورا کرلوں۔لیکن دوسری قسم ہے زِيْنَةٌ وَ تَفَاخُر۔اب لعب اور لہو والی جو قسم ہے اندھیرے کی اس کا زینت و تفاخر والی قسم سے کوئی براہ راست جوڑ نہیں ہے۔یہ دو الگ الگ بیماریاں ہیں۔کئی ایسے لوگ ہیں جو کھیل کود میں مصروف اور نفسانی خواہشات کو اپنا مقصد بنائے ہوئے ہوتے ہیں مگر ان کو زینت اور تفاخر کی ہوش نہیں ہوتی کیونکہ زینت اور تفاخر میں اپنے نفس کو ہمیشہ سجا کر رکھنا ہے۔کوئی ضروری تو نہیں کہ ایک جوئے باز جس کی ھوی ہی جوا ہو وہ ہمیشہ سج دھج کر رہے یا ایک ایسا شخص جو کھلاڑی ہو وہ ہمیشہ بہت خوب صورت بن کے رہے۔کئی کھلاڑی ہیں ان کو اپنے جسم ، اپنے لباس کی ہوش ہی کوئی نہیں ہوتی مگر کھیل کے لئے وقف ہوتے ہیں تو دوالگ الگ چیزیں ہیں۔کچھ لوگ ہیں جن کو اپنے آپ کو ہمیشہ سجا کر رکھنا پیارا لگتا ہے وہ غریب بھی ہوں تو غریبانہ سجاوٹ کریں گے اس کے بغیر رہ نہیں سکتے۔عورتوں میں سجاوٹ کا ایک طبعی مادہ ہے لیکن ہر عورت میں نہیں ہے۔کئی ایسی ہیں جو سارا دن نہ گھر صاف کرتیں، نہ جسم صاف رکھتیں، نہ بال بناتی ہیں اور خاوند واپس آتے ہیں تو عجیب حالت میں وہ گھر کو پاتے ہیں گھر والی بھی اسی طرح بے ہنگم اور گھر بھی اسی طرح بے ہنگم اور بال بھی بکھرے ہوئے۔بعض ایسی عورتوں کو یہ بھی ہوش نہیں ہوتی کہ باہر نکلیں تو پھر بھی ٹھیک ہو جائیں لیکن تفاخر والا جو مضمون ہے وہ زیادہ اہم ہے۔زینت ہر انسان کی تمنا ہے۔ہر مرد کی بھی اور عورت کی بھی لیکن ہر ایک میں نمایاں نہیں ہوتی۔یہ آیت جو بیان فرما رہی ہے۔یہ ان لوگوں کا حال بیان فرمارہی ہے جو زینت کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔گھر میں رہیں یا با ہر ہمیشہ ان کو سجا دھجنا اچھا لگتا ہے۔بعض بچوں میں فطری طور پر یہ بات