خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 255
خطبات طاہر جلد 15 255 خطبہ جمعہ 29 / مارچ 1996ء اس نے یہ تعاون کیا ہے کہ وہ ان سیٹلائیٹس کو بھی زیادہ سے زیادہ طاقت دیں گے اس لئے اس وقتی خلا کو پر کرنے کی خاطر یہ انتظام ہے کہ جب تک اصل انٹینا جو ہونا چاہئے وہ نہیں پہنچتا موجودہ انٹینا سے ہی پروگرام اٹھایا جائے گا۔اس لئے اہل امریکہ ہوں یا دوسرے لوگ وہ جب اگر اس میں کوئی ہلکی سی دھند پائیں یا کوئی خرابی دیکھیں تو صبر سے کام لیں۔چند دن کی بات ہے انشاء اللہ پھر جب اصل انٹینا آ جائے گا تو بہت واضح تصویر میں آئیں گی اور ابھی بھی انہوں نے ہمیں امید یہی دلائی ہے کہ اگر نقص ہے تو معمولی ہوگا بہت زیادہ قابل فکر نقص نہیں ہوگا اور وہ جو پاکستان کے لئے چوبیس گھنٹے کا نظام ہے اس کا سیٹلائیٹ ہمیں دراصل پوری طاقت کا مئی میں ملے گا، ایشیا کے لئے میرا مطلب ہے۔اس سے پہلے عارضی طور پر ہمیں دو ہیمی بیمز Hemi-Beams مل چکی ہیں۔چند دنوں تک وہ بھی شروع ہو جائیں گی تو افریقہ کا جو حصہ کٹا ہوا تھا وہ بھی اس کی وجہ سے انشاء اللہ تعالیٰ ان پروگراموں میں پوری طرح شامل ہو جائے گا۔بہر حال یہ اپریل اور مئی یہ دو مہینے ہیں جو اس پہلو سے خدا کے فضل سے غیر معمولی برکتیں لے کے آئیں گے اور جماعت کو دعا میں یاد رکھنا چاہئے کہ جو بھی عارضی روکیں یا مستقل بعض دفعہ روکیں بنتی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دور فرمادے اور کل عالم کو ہم بہترین پیغام پہنچاسکیں۔اتنا خدا کے فضل سے اس کا Impact ہو رہا ہے دنیا پر ، خاص طور پر عربوں پر کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ایسے ایسے حیرت انگیز خطامل رہے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اتفاقاً MTA دیکھنے لگے اور اب تو اس کے بغیر رہ ہی نہیں سکتے اور بعض لکھتے ہیں کہ ہمیں پتا نہیں بیعت کس طرح کی جاتی ہے مگر آپ ہمیں احمدی سمجھیں اور ہمیں بتائیں کہ کس طرح ہم نے باقاعدہ داخل ہونا ہے۔ایک خاتون نے لکھا ہے کہ میں حاضر ہوں اگر بیعت کے لئے لندن پہنچنا ضروری ہے تو میں لندن پہنچوں گی مگر اب میں بیعت کے بغیر رہ نہیں سکتی۔تو یہ بہت ہی غیر معمولی برکتیں ہیں اور رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ ہی کی برکتیں ہیں اسی لئے کل عالم پر برس رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کا فیض سارے زمانے پر عام کر دے اور ہمارے مشکلات کو دور فرمائے۔آمین