خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 252 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 252

خطبات طاہر جلد 15 252 خطبہ جمعہ 29 / مارچ 1996ء تھیں۔آمنہ طیبہ ان کا نام تھا۔میری چھوٹی پھوپھی جان کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔ہمارے دوسرے بھائی حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی اہلیہ تھیں۔ان کا رشتہ ازدواجی تقریباً پچاس سال سے زیادہ عرصے پر پھیلا ہوا ہے اور مثالی رشتہ تھا یعنی سارے خاندان میں اگر کسی کو کوئی مثالی رشتہ پیش کرنا ہو تو ان کی طرف اشارہ ہوتا تھا۔میاں بیوی کے آپس میں تعلقات بگڑتے بھی ہیں یعنی وقتی طور پر رنجشیں بھی پیدا ہوتی ہیں مگر ان کی رنجشیں کبھی دکھائی نہیں دیں۔بہت ہی گہرے فہم کے ساتھ اور باہم افہام تفہیم کے ساتھ اگر کوئی کبھی آپس میں رنجش ہوئی ہے تو خود ہی اندر ہی طے کر لیا گیا لیکن جہاں تک ایک مثال کا تعلق ہے مجھے آج تک کبھی یاد نہیں کبھی بھی میں نے ان کو ملتے ہوئے اس طرح دیکھا ہو یعنی دعوتوں میں یا باہر گھروں میں یا ہمارے وہاں جانے پر یا ان کے ہمارے ہاں آنے پر کہ ان کے چہروں پر کبھی بھی کوئی رنجش کے آثار ہوں۔اس پہلو سے بہت مثالی رشتہ تھا۔اور ان کا نام آمنہ تھا اور طیبہ اور امر واقعہ یہ ہے کہ آمنہ حقیقی معنوں میں آمنہ تھیں۔طیبہ حقیقی معنوں میں طیبہ تھیں۔شاید ہی کوئی بیوی ایسی ہو جس کے متعلق انسان اس وثوق کے ساتھ کہہ سکے کہ اس نے اپنے خاوند کی ہر امانت کا حق ادا کیا ہے اور ہر طیب بات کسی بھی طیب بات میں وہ چوکی ہو۔عقل کا مجسمہ، بہت ہی سلجھی ہوئی طبیعت اور حضرت چھوٹی پھو پھی جان کی تمام خوبیوں کی وارث اور حضرت چھوٹے پھوپھا جان نواب محمد عبداللہ خان صاحب کی خوبیوں کی بھی وارث تھیں۔آخری دنوں میں یعنی پچھلے عرصے سے یہ تشویشناک خبر مل رہی تھی کہ ان میں کمزوری بہت پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے گرنے لگ گئی تھیں اور اس کی وجہ سے بہت تشویش تھی کہ خدانخواستہ کہیں ایسی حالت میں گریں کہ ہڈی ٹوٹ سکتی ہے۔تو جہاں تک زندگی کے ان لمحات کا تعلق ہے آپ کے لئے تو یہ وقت خدا تعالیٰ نے جس وقت واپس بلایا ہے یہ بہر حال رحمت ہی تھا اور خدا کا کوئی فیصلہ بھی ایسے لوگوں کے لئے رحمت کے بغیر نہیں ہوا کرتا مگر جو پیچھے رہ گئے ہیں ان کے لئے بہت بڑا ابتلاء ہے۔خاص طور پر ہمارے بھائی کے لئے ، ان کے لئے دعا کریں ان کی مجھے بہت فکر ہے کیونکہ بے حد محبت کی بات نہیں تھی ، ایک دوسرے پر ایسا سہارا تھا کہ ناممکن تھا کہ ایک دوسرے کے بغیر رہ سکیں۔یہی کیفیت ان کی ہے وہ بے اختیار ہیں اس معاملے میں۔بڑے صابر ہیں، حوصلے والے ہیں، صاحب عزم ہیں مگر وہی بات محبت کے او پر بس کس کا ہے، بے اختیاری کے معاملات ہیں۔ان کو اپنی دعاؤں میں یادرکھیں۔ان کے بچوں کو