خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 251 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 251

خطبات طاہر جلد 15 251 خطبہ جمعہ 29 / مارچ 1996ء اب میں کچھ اعلان کرنا چاہتا ہوں۔انسانی زندگی بھی شب و روز کی طرح سیاہ وسفید کے دھاگوں میں بٹی ہوئی ہے۔رات اور دن دو سفید اور سیاہ دھاگے ہیں۔انسانی زندگی میں غم اور خوشی ، کامیابیاں اور بعض پہلوؤں سے ناکامیاں یہ دور رہے ہیں جن کے ساتھ انسانی زندگی بٹی ہوئی ہے۔پس بیک وقت غم کی بھی خبر ہوتی ہے خوشی کی بھی خبر ہوتی ہے مومن کا کام یہ ہے کہ راضی برضا رہتے ہوئے اپنے قدم ہمیشہ آگے بڑھاتا رہے۔نہ کسی غم کی وجہ سے اس کے قدم رکیں ، نہ کسی خوشی کی وجہ سے اس کے اندر سہل انگاری پیدا ہو اس کے اندر جھوٹے فخر و مباہات کے زہر اس کے عزم کو کمزور نہ کر سکیں۔یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جسے ہمیں سمجھنا ضروری ہے۔سب سے پہلے میں جماعت احمد یہ یو۔کے کے لئے اور ان کے حوالے سے سب دنیا کے لئے یہ خوش خبری پیش کرنا چاہتا ہوں کہ وہ مسجد کی زمین جس کے متعلق بہت جھگڑے اٹھے، بہت مخالفتیں ہوئیں ، کوشش کی گئی کہ ہمیں اس حق سے محروم کر دیا جائے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ آخری Deel طے ہو گئی ہے، پیسے ادا ہو گئے ، امیر صاحب نے آج آکر خبر دی ہے کہ وہ قبضہ لے آئے ہیں ماشاء اللہ۔بہت ہی اہم جگہ ہے شہر کے اندر گھری ہوئی اور بہت وسیع جگہ، بہت بڑی عمارت ہے، حفاظتی انتظامات خدا کے فضل کے ساتھ سارے ہیں، ایسی مضبوط چاردیواری ہے جسے اگر عام جگہ لی جاتی تو کونسل نے ہمیں ایسی بنانے کی اجازت ہی نہیں دینی تھی کیونکہ انڈسٹری وہاں تھی اس لئے اس کی حفاظت کے لئے کونسل مجبور تھی اور پھر خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ تمام حفاظتی نظام جو بہت قیمتی نظام اس کمپنی نے قائم کیا ہوا تھا وہ سب کل پرزے ہر چیز ہمارے سپر د کر کے وہ الگ ہو گئے ہیں۔ہمیں تو اللہ کی حفاظت ہی ہے مگر جو دنیا کا نظام ہے حفاظت کا وہ بھی خدا کے فرمان کے مطابق ہمیں اختیار کرنا ہوتا ہے۔پس اللہ کے فضل سے بہت ہی اچھا سودا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اور تمام دنیا کی جماعتوں کو بھی مبارک کرے۔اس کے ساتھ جو خدشات لاحق ہیں ، اگر کوئی ہیں، تو اللہ خود ہی ان سے بیٹے اور جماعت کو ہرگزند سے محفوظ رکھے اور جو اچھی باتیں اور امید افزاء باتیں وابستہ ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ہماری توقعات سے بھی زیادہ بڑھا دے۔جو غم کی خبر ہے وہ اکثر پہنچ ہی چکی ہوگی دوستوں کو ، ہمارے زندہ بھائیوں میں سے سب سے بڑے بھائی کی بیگم اور زندہ بھابیوں میں سب سے بڑی بھا بھی کا کل انتقال ہوا ہے۔حضرت سیده آمنه، سیده ان معنوں میں کہ عزت کے لحاظ سے کہہ رہا ہوں ورنہ وہ ذات کے لحاظ سے پٹھان