خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 245
خطبات طاہر جلد 15 245 خطبہ جمعہ 29 / مارچ 1996ء اور عادتا اس کا مزاج دیکھنا چاہئے کہ یہ عبد بن چکا ہے کہ نہیں۔ایسے عباد جو ہیں جب وہ مشورہ دیں گے تو پھر لازماً ان مشوروں میں وقعت پیدا ہوگی ان کے اندر قدر و قیمت ہوگی کیونکہ یہ مشورے محض قانون سازی نہیں بلکہ ان کے اندر کچھ اور مضمون ہے۔اب بقیہ نصیحتوں سے پہلے میں اس مضمون کو آگے بڑھاتا ہوں۔یہ مشورے ہیں کیا، ان کی حیثیت کیا ہے۔فرمایا فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ یہ لوگ جو ہیں جن سے تجھے پیار ہے تیرا دل ان پر جھکا ہوا ہے کیونکہ تو نے خدا کی رحمت سے حصہ پایا ایسا حصہ پایا کہ کبھی کسی اور نے نہیں پایا تو تمام وہ عالم جو خدا کی مخلوق ہے جو خدا کی رحمت سے کسی نہ کسی رنگ میں حصہ پاتا ہے وہ سارا عالم تیری رحمت کے تابع کر دیا گیا۔پس ان سے وہ سلوک کر جو اللہ تعالیٰ اپنے پاک اور اپنے پیارے بندوں سے کرتا ہے خواہ وہ گنہ گار بھی ہوں۔فرمایا فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرُ لَهُمُ ان کو بخش دے۔ان سے عفو کا سلوک کر اور ان کے لئے بخشش طلب کر۔اس سے پتا چلتا ہے کہ آنحضرت می اور اللہ تعالیٰ میں جو ایک ایسا فرق ہے جو خالق اور مخلوق میں ہے جو رحمت کے اکٹھا ہونے کے باوجود لازماً ر ہے گا وہ استغفار کا مضمون ہے۔جو خدا کے گناہ (حقوق اللہ ) ہوتے ہیں ان کو نبی بخش نہیں سکتا۔نبی اپنے خلاف باتوں کو نظر انداز فرما دیا کرتا ہے۔فَاعْفُ عَنْهُمْ کا مطلب یہ ان سے جو کمزوریاں لاحق ہوتی ہیں جہاں تک ممکن ہو نظر پھیر لیا کر ، پرواہ نہ کیا کر کیونکہ جب پیار ہو تو ایسا ہوتا رہتا ہے۔ایک ماں کا محبوب بچہ ہو اس سے برتن ٹوٹ بھی جائے تو ماں دوسری طرف دیکھ لیتی ہے۔کوئی اور کام ایسا سرزد ہو جائے جسے بعض دوسرے کبھی نظر انداز نہیں کر سکتے جان بوجھ کر وہ غفلت دکھاتی ہے کہ گویا کچھ بھی نہیں ہوا تو یہ حصہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے۔اس معاملے میں کوئی مسابہ الامتياز بندے اور خدا کے درمیان نہیں۔فرمایا تجھے محبت ہے ہم جانتے ہیں تجھے ان سے پیار ہے تو ان پر جھک گیا ہے لِنتَ لَهُمْ بہت ہی عظیم مضمون ہے۔تیرا دل نرم پڑ چکا ہے ان کے لئے ،تو ان پر اس طرح بچھا جا رہا ہے جیسے ماں بچے پر پچھتی ہے اس لئے عفو کی حد تک جہاں تک ممکن ہے ان سے یہ سلوک کر۔لیکن ان سے ایسی غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں جو خدا کو ناراض کر دیں۔پس ہمیشہ ان کے لئے بخشش طلب کرتارہ۔شَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ اب باری آئی ہے شوری کی۔وہ لوگ جن سے ایسا پیار ہو، جن