خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 244 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 244

خطبات طاہر جلد 15 244 خطبہ جمعہ 29 / مارچ 1996ء ویسے چودھراہٹ کے لئے آگے آنے والے ہر ابتلا میں ٹھوکر کھا سکتے ہیں اور بنیادی طور پر ٹھوکر کھائے ہوئے لوگ ہیں۔وہ فتنوں میں مبتلا لوگ ہیں جن سے آپ کام لے کر دھو کہ کھا رہے ہیں کہ گویا وہ خدا کی خاطر خدمت کر رہا ہے۔چنانچہ بسا اوقات میں نے عملاً اس غرض سے جائزہ لیا ہے کہ وہ لوگ جو منافقانہ رنگ رکھتے تھے جن کے نفاق ننگے ہوئے ان کی مالی قربانی کا جائزہ لیا تو صفر نکلا یا اتنا معمولی کہ گویا وہ سانس اٹکانے کی خاطر کچھ دے رہے ہیں مگر سخت مجبوری کے پیش نظر۔اور اس کی مثال ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں جب بھی کوئی ابتلا آیا ہے میں نے ہمیشہ ایسے لوگوں کے ریکارڈ نکلوائے اور دیکھا تو پتا چلا کہ پتا نہیں کیوں دھوکے کی وجہ سے کسی کو پتا ہی نہیں چلا کہ یہ تو خالی کھو کھلے لوگ تھے ان سے کام لینا ہی نہیں چاہئے تھا۔ان کے سپر اہم ذمہ داریاں کرنی ہی نہیں چاہئیں تھیں۔مگر لاعلمی میں یا بظا ہر بعض دفعہ کسی کی شان و شوکت ایسی ہوتی ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ اتنا مخلص آدمی ہو سکتا ہے بھلا کہ یہ قربانی میں پیچھے ہو اس لئے مزید جستجو ہی نہیں کی جاتی اور ان کو کاموں میں قبول کر لیا جاتا ہے اور جب وقت آتے ہیں تو ان کے کاموں میں خلاء نکلتے ہیں، ان کے کاموں میں کمزوریاں رہ جاتی ہیں۔بعض دفعہ ان کے جماعت کے نام پر کئے ہوئے معاہدوں میں ایسے رخنے ملتے ہیں کہ کوئی ایسا شخص جو محبت کی وجہ سے خدا کی خاطر قربانی دینے والا ہو وہ بے اعتنائی سے وہ معاہدے کر ہی نہیں سکتا۔ایک ایک پیسے کی خاطر اس کی جان نکل رہی ہوتی ہے۔اپنی خاطر نہیں بلکہ اللہ کی خاطر کہ میں خدا کا امین ہوں کہیں کوئی ایسا سودا نہ ہو جائے جس سے ہمیں کوئی نقصان پہنچے۔تو یہ سارے مضامین آپس میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔پس شوری کے لئے دوسرا مشورہ یہ ہے اور بڑا اہم ہے کہ جو خدا کی خاطر قربانیاں دینے والے ہیں ان کو آگے لایا کریں اور اپنی سوچوں میں اس مضمون کو ہمیشہ داخل کریں کہ انتخاب کرتے وقت محض ظاہری طور پر اچھے، سمجھدار لوگ آپ کے پیش نظر نہ رہیں۔یہ دیکھا کریں کہ ان میں ٹھوس خدمت کرنے والا ، تقویٰ سے مشورہ دینے والا کون ہے اور کس کا سب کچھ خدا کے لئے حاضر رہتا ہے۔وہ غریب ہو یا امیر ہو کا لا ہو یا گورا ہو یہ بخشیں بالکل بے تعلق ہیں۔پس جو خدا کو تحفے دیتا ہے جس کے التحیات اللہ خدا کے حضور اس کا ایک تعلق قائم کرتے ہیں وہ زیادہ اہل ہے کہ وہ مشورے دے۔پس مجلس شورای میں انتخاب کے وقت جانی اور مالی قربانیاں دونوں ہی پیش نظر رہنی چاہئیں