خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 19 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 19

خطبات طاہر جلد 15 19 خطبہ جمعہ 5 /جنوری 1996ء رنگ میں حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح بھی فرمایا کہ قادیان میں 1943ء ہی میں جو تعلیمی کمیٹی انجمن کی قائم فرمائی جس کے صدر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تھے، اس میں مولوی صاحب کو بھی اپنی کم عمری کے باوجود اس زمانے کے لحاظ سے اس کا ممبر بنایا اور باقی ممبر جو تھے ان کا اندازہ کریں کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے علاوہ ملک غلام فرید صاحب ، مولانا شمس صاحب، ملک سیف الرحمان صاحب وغیرہ یہ اس کے ممبران تھے۔پھر ایک موقع پر آپ کو ناظر انخلاء آبادی مقرر فرمایا گیا۔جامعتہ المبشرین میں 1949ء میں آپ بطور مدرس مقرر ہوئے ، اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ جماعت میں جو عہدے ہیں ان کی کوئی خاص قیمت نہیں ہے۔خدمت ہے بس۔کسی وقت بھی کسی شخص کو کبھی ناظر بنا دیا جائے کبھی استاد بنا دیا جائے ، مجال ہے جو کبھی ماتھے پر بل پڑیں کہ میں ناظر تھا اب میں استاد بنا دیا گیا ہوں۔اسی طرح شوق اور ولولے سے ہنستے کھیلتے مسکراتے ہوئے خدمت سرانجام دینے کی روح ہے جو جماعت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔تو وہاں میرے بھی استاد تھے۔قرآن کریم کے لئے ہمارے مولوی نورالحق صاحب بھی استاد ہوا کرتے تھے اور بڑی شفقت کا تعلق تھا ، بے تکلفی بھی تھی ، بچے ان کو تعلیم میں چھیڑا بھی کرتے تھے اور یہ سکرا کر کافی حوصلے کا ثبوت دیا کرتے تھے۔یہ عجیب قسم کے ہمارے تعلقات ہوتے تھے، ادب بھی ہوتا تھا، بے تکلفیاں بھی تھیں۔وقف جدید کا قیام ہوا ہے تو آغاز ہی سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آپ بھی مجلس وقف جدید کے ممبر رہے اور ہم ہمیشہ مالی معاملات میں حضرت مولوی صاحب کو ضرور مقرر کیا کرتے تھے کیونکہ یہ یقین تھا کہ یہ مالی نگرانی میں بہت اعلیٰ مرتبہ رکھتے ہیں اور یقین ہوتا تھا کہ کسی غلط خرچ کی اجازت ہی نہیں دیں گے، اس لئے امانتوں پر دستخط کے لئے مولوی صاحب کا نام ضروری تھا اور اکاؤنٹس کو دیکھنے کے بعد جب تسلی کر لیتے تھے کہ ہر چیز درست خرچ ہو رہی ہے تب دستخط کیا کرتے تھے۔پھر اراکین افتاء میں بھی آپ رہے، دارالقضاء کے بورڈ میں بھی رہے اور قرآن پبلیکیشنز ناظم بک ڈپو، سیکرٹری نصرت پرنٹرز رہ کر اہم خدمات سرانجام دیں۔اب میں جو قرآن کریم کا اردو تر جمہ کر رہا ہوں اس میں بھی حسب سابق جیسا کہ حضرت مصلح موعود البعض علماء سے خدمتیں لیا کرتے تھے میں نے ایک ترجمتہ القرآن کمیٹی بنائی ہے ربوہ میں جو میرے ترجمے پر گہری نظر ڈالتے ہیں کہیں کوئی گرائمر کی غلطی میری لا علمی کی وجہ سے رہ گئی ہو یا کوئی ایسا نقطہ جو میری توجہ میں لانا ضروری ہو وہ بڑی محنت